16 خرداد 1399
  -  
2020 ژوئن 5
  -  
13 شوال 1440
 
شہیدجنگ آزادی علامہ محمد باقر
• شہیدجنگ آزادی علامہ محمد باقر •

(علامہ محمد باقر مجتہد جنگ آزادی کے انتہایی مظلوم شہید ہیں۔ آپ کو بڑے مظلومانہ انداز میں توپ کے دہانے سے شہید کیا گیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپ جنگ آزادی کے پہلے شہید ہیں۔ لیکن پہلے شہید جنگ آزادی ہونے کے تئیں آپ کو کتنا خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے یہ قابل غور بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شہید مظلوم کا ہم پر بہت بڑا حق ہے جس کو ہم نے ابھی تک ادا نہیں کیا۔ ہم کو چاہئے موقع موقع سے اس عظیم بہادر کی یاد کو تازہ کرتے رہیں۔ اس وقت نیٹ پر تلاش کے ذریعہ پتہ چلتا ہے کہ حتی وکیپیڈیا پر بھی آپ کے سلسلہ میں کوئی مضمون نہیں ہے۔ امید ہے کی صاحبان قلم ان خلاوں کو پر کریں گے۔ مجمع محققین ہند)




 

شہیدجنگ آزادی علامہ محمد باقر

تحریر: جناب ڈاکٹر حسن مثنیٰ

تحقیق سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ شمالی ہند میںاردو صحافت کے بانی مولوی محمد باقر ہیں جو مولانا محمد حسین آزاد کے والد بزرگوار تھے۔ ہندوستانی تاریخ صحافت کی رو سے انھیںپہلا شہید قرار دیا جا تا ہے لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اب تک ان پر باقاعدہ کام نہیں ہو ا ہے اور نہ ہی ان کے حالات زندگی کا ہمیں پورے طور پر علم ہے،اسی پر بس نہیں بلکہ وہ واقعات بھی ابھی پردہ خفا میں ہیں جو ان سے منسوب  کئے جاتے رہے ہیں۔اس مقالے میںمیں اپنی محدود معلومات کی حد تک ان حقائق کی روشنی میں چندنتائج اخذ کرنے کی کوشش کروںگا  تاکہ ڈیڑھ سو برس بعد ہی صحیح ہم سب پر حقیقت آشکار ہو سکے۔
علاّمہ محمد باقرکی پیدائش کے سلسلے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا ہے لیکن قرین قیاس ہے کہ وہ 1780میںپیدا ہوئے کیوں کہ جب انہوںنے دہلی اردو اخبار شائع کرنا شروع کیا تھااس وقت ان کی عمر تقریبا 57برس تھی۔ان کا سلسلئہ نسب کئی پشتوں کے بعد رسول اسلام حضرت محمدمصطفےٰ کے برگزیدہ صحابی سلمان فارسی سے جا ملتا ہے ۔ان کے مورث اعلیٰ مولانا محمد شکوہ ایران کے مشہور شہر ہمدان (ایران)سے شاہ عالم کے دور میں یہاں فروکش ہوئے تھے۔مولانا محمد شکوہ کے صاحبزادے محمد اشرف کا شمار اپنے عہد کے نامور علما میں ہوتا تھا ۔ان کا احترام شاہ عالم کے دربار میں بھی تھا اور بادشاہ نے انہیں وظیفہ سے سرفراز کیا تھا ۔انھیںکے فرزند محمد اکبر کے اکلوتے جانشین مولوی محمد باقرتھے جن کی سما جی حیثیت کا اندازہ آغا محمد طاہر نبیرئہ آزاد کے اس قول سے ہوتا ہے:''حضرت آزاد مرحوم کے والد ماجد علاّمہ محمد باقر شہید شیعوں کے مجتہد تھے''
وہ نہ صرف نجیب الطرفین اور علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے بلکہ انہوں نے ایک باوقار خانوادے میں آنکھ کھولی تھی اور ان کے والد مولوی محمد اکبر نے اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خاصی توجہ مرکوز کی تھی۔ انہوں نے شروع شروع میں اپنے والد ماجد کے سامنے ہی زانوئے ادب تہہ کیا بعد میں میاں عبدالرزاق صاحب کے شاگرد ہوئے جو دہلی کے ایک نامور عالم تھے۔ آپ1825 میں دہلی کالج میں داخل کرادیے گئے۔ان کی صلاحیتوں سے متاثر ہو کر لارڈ ولیم بینٹنگ نے انھیں اعزاز سے بھی نوازاتھا ۔یہ ان کی قابلیت کا ثمرہ ہی تھا کہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اسی کالج میں مدرس مقرر ہوئے اور کافی شہرت حاصل کی۔ یہیں انہوں نے کالج کے پرنسپل ٹیلر کو فارسی پڑھائی اور ان سے ان کی دوستی پروان چڑھی لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں نکالنا چاہئے کہ مولوی باقر، ٹیلر کی مشنری سرگرمیوں میں ان کے معاون تھے بلکہ وہ تو اپنے اخبار میں ان کے خلاف لکھتے رہتے تھے جسے ٹیلر سم قاتل گردانتا تھا اور چاہتا تھا کہ وہ اس طرح کے مضامین نہ لکھیں ۔ ان کے والد نے انہیں نہ صرف دینی علوم کی طرف راغب کیا تھا بلکہ علوم دنیوی سے بھی بہرہ ور کرایا تھا جس کے صلے میں انہیں تحصیلداری اور کلکٹری بھی عطا ہوئی تھی جہاں انہوں نے سولہ برس تک اپنے فرائض منصبی ادا کیے۔یہ وہی زمانہ ہے جب انہوں نے دہلی اردو اخبار شائع کرنا شروع کیا جس کی بدولت انہیں ہندوستانی صحافت کابنیاد گزار مانا جاتا ہے ۔جب مولوی باقر نے اخبار نکالنے کا فیصلہ کیا تو انہیں ایک پریس کی ضرورت محسوس ہوئی جو انہیںان کے دیرینہ دوست مسٹرٹیلر کے توسط سے ہاتھ آگیااس امر کی اطلاع ڈکشنری آف نیشنل بایو گرافی کی ورق گردانی سے ہوتا ہے۔یہ پریس ڈاکٹر اشپرنگر پرنسپل دہلی کالج کے زمانے میں خریدا گیا تھا تاکہ دہلی کالج کی نصابی کتا بیں شائع کی جا سکیں لیکن یہ ضرورت جلد پوری ہو گئی جس  کے بعد یہ پریس ان کے لئے بے مصرف ہو گیا تھا اور ٹیلرجو ان دنوں کالج کے پرنسپل تھے چاہتے تھے کہ اسے اونے پونے فروخت کر کے اس سے نجات حاصل کی جائے۔مولوی باقر کے لئے اس سے اچھا موقع اور کیا ہو سکتا تھا انہوں نے اپنے تعلقات کا فائدہ اٹھایا اور اسے خرید لیا جو ان کے دہلی ا ردو اخبار کی اشاعت کے لئے اہم ثابت ہوالیکن ملازمت کی مجبوریوں کی بنا پر شروع میں ان کا نام عملئہ ادارت میں شامل نہیں ہوتا تھا جبکہ دیگر اعزہ کا نام جلی حروف میںشائع کیا جاتا تھا ۔تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا نام ١٨٤٨ء سے بہ حیثیت مہتمم شائع ہونے لگا تھا ان کے والد انگریزوں کی نوکری سے خوش نہیں تھے ا ور وہ چاہتے تھے کہ وہ مذہبی کاموں میںدلچسپی لیں لہٰذا اپنے والد کی ایما پر ملازمت ترک کرکے وہ علوم مذہبی کی ترویج و اشاعت میں مصروف ہوگئے اور اکتوبر ١٨٤٣ء میں'' مظہر حق'' نامی رسالہ جاری کیا جس کا سالانہ چندہ دس روپئے تھایہ رسالہ زیادہ دنوں تک نہ چل سکا۔ان کی شادی ایک ایرانی خاتون امانی خانم سے ہوئی تھی جن سے محمد حسین آزاد اور ایک صاحبزادی متولد ہوئیں ۔امانی خانم کے انتقال کے بعد انہوںنے  دوسری شادی ماسٹر حسینی کی بہن سے کی تھی ۔وہ عالم و فاضل ہونے کے ساتھ ساتھ وسیع النظر اور انسان دوست شخصیت کے حامل تھے۔ ان کے حلقۂ احباب میںہندو مسلمان عیسائی سبھی مذہب و مسلک کے لوگ شامل تھے جن میں ماسٹر رام چندر ،پربھو دیال اور ٹیلر سر فہرست ہیں۔ وہ مادر وطن کی غلامی کو سوہان روح سمجھتے تھے اور ملک کو انگریزوں کے تسلط سے آزاد کرانے کے آرزومند تھے۔انہیں یہ احساس تھا کہ صحافت ہی ایسا پیشہ ہے جس کے ذریعہ اپنا مدعا حاصل کیا جا سکتا ہے ۔انہوں نے میدان صحافت میں بھی اپنے مجتہد ہونے کا ثبوت دیا اور کوشش کی کہ اس میں ملکی و غیر ملکی سبھی طرح کی خبریں شائع ہوں اور اسے ایک ادبی حیثیت بھی حاصل ہواسی لئے اس میں مشاہیر کاکلام خصوصا قلعے معلیٰ سے متعلق شعرا کا کلام بڑے اہتمام سے شائع ہوتا تھا۔اس اخبار کے ذریعے وہ عوامی فلاح و بہبود کی خبروں کے علاوہ سماجی بدعتوں،برائیوں اور سرکارکی ناکامیوں کو موضوع بحث بنایا اس کے لئے انہوںنے سرکاری حکام کی زیادتیوں،اقتصادی بدحالیوں،جرائم کے ارتکاب کی خبریںشائع کیںساتھ ہی ساتھ وہ اپنے اخبار میں جنگ آزادی کی خبروں ،بادشاہوں اور شہزادوں سے متعلق خبروں،ایسٹ انڈیا کمپنی کی خبروں کو علیٰحدہ علیٰحدہ کالموں میں پیش کیا کرتے تھے اور ان کے لئے مستقل اصطلاحات بھی وضع کر رکھی تھیںمثلاََ مغل تاجداروں کی خبریں ''حضور والا ''کے عنوان سے شائع ہوتی تھیں تو ایسٹ انڈیا کمپنی کی خبروں کے لئے ''صاحب کلاں بہادر ''کا عنوان تراشا گیا تھا۔ان کا ایقان بلکہ ایمان تھا کہ ایک مدیر کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے اخبار میں ایسے مواد شائع کرے جس سے عوام کے اخلاق اور کردار کو سنوارنے میں مدد ملے،ان کی زندگی بہتر بنائی جا سکے ۔انہوںنے اپنے قلم سے ثابت کر دکھایا کہ مجاہدین وطن صداقت ،حریت اور وطن پرستی کی بہترین مثال ہوا کرتے ہیں جس سے آئندہ نسلیں سبق لیا کرتی ہیں۔انہوں نے اپنی صحافتی کارکردگیوںسے ہم میںجوش و جذبہ پیدا کیا،اتحاد کا پیغام دیا اور مستقبل کا خواب سنجونے کا ہنر سکھایا اور میدان صحافت میں ایک ایسا شاہراہ تعمیر کر گئے جس پرنہ صرف اردو صحافت نازاںہے بلکہ پوری قوم کا سر بلند ہے کہ  اسی جیالے نے سب سے  پہلے انگریزوں کو اس ملک سے باہر نکالنے کے لئے انتہائی اقدام کئے۔
مولانا باقر کشمیری دروازہ کے علاقہ میںکھڑکی ابراہیم خاں میں رہتے تھے جہاں انہوںنے ایک مسجد بھی تعمیر کرائی تھی جو کھجور والی مسجد کے نام سے مشہور تھی اس کے علاوہ انہوں نے١٢٦٠ ھ میںایک امام بارگاہ بھی تعمیر کرایا تھا جس کی تاریخ استاد ذوق نے ''تعزیت گاہ امام دارین ''سے نکالی تھی۔اپنی علم دوستی کے ساتھ ساتھ وہ ایک کاروباری ذہن بھی رکھتے تھے چنانچہ اپنے دوست ٹیلر کے مشورے سے ایرانی سوداگروں کی رہائش کے لئے ایک سرائے بھی تعمیر کرائی تھی جس سے بیرونی تجارت کو فروغ ہوا اور ان کاشمار شہر کے متمول افراد میں ہونے لگا تھا۔ان کی زندگی میں ایک مذہبی مناقشہ کی بھی خاصی اہمیت ہے جس کا آغاز١٨٤٩ء کے آس پاس ہوا تھا۔ اس میں نواب سید حامد علی کا ہاتھ بتایا جاتا ہے جنہوں نے اپنی انا کی تسکین کے لئے یہ فتنہ پردازی تھی جس کے تحت حضرت ذوق کے مقابلے میں غالب کو کھڑاکیا تھاتو مولانا باقر کے مقابلے میں علامہ قاری جعفر علی کو۔ان دونوں میں پہلے تو یہ مذہبی معاملہ رہا بعد کو مباحثہ ،مناظرہ بلکہ مجادلہ تک پہنچ گیااور شیعہ حضرات دو گروہوں میںمنقسم ہو گئے۔ایک موقع ایسا بھی آیا کہ مولوی محمد باقر پر کفر کا فتویٰ بھی صادر کیا گیالیکن اس سب کے باوجود ان کے پائے استقلال میں کمی نہ آئی اور وہ اپنی منزل کی جانب گامزن رہے۔ ان میں شروع سے ہی کچھ کرگزرنے کا جذبہ موجود تھا جس کی سب سے اچھی مثال پریس قائم کرنا اوردہلی  اردو اخبار جاری کرنا تھا، کیو ںکہ انگریزوں کے دور حکومت میں اخبار شائع کرنا بڑا دشوار عمل تھا ۔مٹکاف نے ١٨٣٦ء میں جب پریس کو آزادی دی تو اسے اس عمل کی پاداش میں اپنے عہدے سے ہٹنا پڑا لیکن دیسی اخباروں کا نکلنا ذرا آسان ہوگیا اور اسی موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مولوی محمد باقر نے اس سمت میں قدم اٹھایا اور مطبع جعفریہ اور مطبع اثناء عشری قائم کیا جو بعد کو ''اردو اخبار پریس'' ہوگیا جہاں سے ''دہلی اردو اخبار'' ہر ہفتہ یکشنبہ کو شائع ہوتا۔دہلی اردو اخبار کب جاری ہوا اس سلسلہ میں کافی اختلاف رائے ہے کیوںکہ مارگریٹا بارنس نے اپنی تصنیف Indian Press میں اس اخبار کی اشاعت ١٨٣٨ء تحریر کی ہے جبکہ مولوی اختر شہنشاہی کے خیال میںاس اخبار کی رسم اجرایکم مارچ 1858مین ہوئی بہ قول محمد عتیق صدیقی یہ اخبار ١٨٣٧ء میںجاری ہواجبکہاس اخبار بانی علاّمہ باقر کے فرزند مولانا محمد حسین آزاد نے اپنی شاہکار تصنیف آب حیات مطبع لاہور ١٩٥٠میںصفحہ ٢٦پر یہ الفاظ تحریر کئے ہیں:
''١٨٣٦ء میں اردو کا پہلا اخبار دہلی میں جاری ہوا ۔یہ اس زبان کا پہلا اخبار تھاکہ میرے والد مرحوم کے قلم سے نکلا''

مولاناآزاد کے اس بیان کی تصدیقدیگر کئی محققین نے کی ہے جن میں Culture-pub1950  Islamicکے مصنف سجن لال ،''صحافت پاکستان و ہند میں''مطبوعہ لاہور ١٩٣٦ء کے مصنف ڈاکٹر عبدالسلام خورشیدنے اپنی تصنیف کے صفحہ ١٠٣پر آزاد کے بیان کی تائید کی ہے اس کے علاوہ''تاریخ ا ردو صحافت'' مطبوعہ دہلی جلد دوئم حصہ اول کے مصنف امداد صابری نے اپنی تصنیف کے صفحہ 28 پرآزاد کے بیان کی تصدیق کی ہے۔مندرجہ بالہ مباحث سے یہ ثابت کرنا مقصود تھا کی دہلی اردواخبار1836 میں ہی شائع ہونا شروع ہوا جس پر اس کی قیمت ماہوار دو روپے ،چھ ماہ کے گیاہ روپے اور سالانہ ٢٠روپے درج ہیں۔ اس اخبار کا سائز20x30تھا۔اس سے قبل کہ اردو اخبار اور شہید صحافت علاّمہ محمد باقر پر اظہار خیال کیا جائے اخبارات کی اہمیت اور انگریزوں کی حرفت بازیوں کا ذکربھی کرتے چلیں تو بہتر ہوگا ۔کیونکہ یہ تو ہم سبھی جانتے ہیں کہ اخبارات میں رائے عامہ تیار کرنے کی ایسی قوت ہوتی ہے جو عوام کی ذہنیت تبدیل کرکے کسی خاص نہج پراستوار کر سکتی ہے۔ اس کا ایک نمونہ جدوجہد آزادی ہند کی پہلی جنگ ١٨٥٧ء کے وقت بھی دیکھنے کو ملا جب دیسی اخباروں نے اپنی خبروں اور رپورٹوں سے مجاہدین آزادی کے اندر جوش و جذبہ پیدا کیا ،ان میں سامراجی ذہن رکھنے والے انگریزوں سے لڑنے کی قوت پیدا کی، انگریزوں کی قلعی کھولنے کا کام کیا۔اسی لئے وہ ہرگز نہیں چاہتے تھے کہ اخبارات یا ہندوستانی پریس کو آزادی ملے۔ انہیں معلوم تھا کہ اگر دیسی اخبارات کو آزادی مل گئی تو اس سے انگریز مخالف رائے عامہ ہموار ہوگی اور ان کی ظلم و زیادتی کا پردہ فاش ہوگا جوحکومت کی چولیں ہلادے گا۔ انہیں یہ بخوبی معلوم تھا کہ انہوں نے نانا صاحب ، کنور سنگھ ، جھانسی کی رانی اور راؤ صاحب کے ساتھ کس درجہ زیادتیاںکی ہیںاور وہ اودھ کی سلطنت پر کس طرح قابض ہوئے ہیں یا پھر ملک کے مختلف علاقوں کے زمینداروں پرکون کون سے ظلم روا رکھے گئے ہیں۔ اپنے اسی مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے کئی قوانین بھی بنائے تھے کہ عوام کی آواز کو دبایا جا سکے لیکن حق کی آواز کب دبنے والی تھی اسے تو ایک دن بلند ہونا ہی تھا جوہوکر رہا اور پورے ملک میں انگریزوں کے خلاف بغاوت کی لہر دوڑ گئی۔  اس ضمن میں دیکھیں ٹامس منرو (Thomes Munrow)کے یہ جملے جس میں وہ ہندوستانی اخبارات کو اس کا جائز حق نہ دینے پر مصر ہے:
''ہم نے اپنی سلطنت کی بنیادیں جن اصولوں پر استوار کی ہیں ان کی رو سے رعایا کو اخباروں کی آزادی نہ تو کبھی دی گئی اور نہ کبھی دی جائے گی۔ اگر ساری رعایا ہماری ہم وطن ہوتی تو میں اخباروں کی انتہائی آزادی کو ترجیح دیتا لیکن چونکہ وہ ہماری ہم وطن نہیں ہے اس لیے اس سے زیادہ خطرناک اور کوئی چیز نہیں ہوسکتی۔ اخباروں کی آزادی اور اجنبیوں کی حکومت ایسی چیزیں ہیں جو نہ تو ایک جگہ جمع ہوسکتی ہیں اور نہ مل کر ایک ساتھ چل سکتی ہیں۔ آزاد اخبارنویسی کا پہلا فرض کیا ہے؟ اس سوال کا یہی جواب ہوسکتا ہے کہ ملک کو بدیسی حکمرانوں سے نجات دلائی جائے اگر یوروپین اور ہندوستانی اخباروں کو آزادی دی گئی تو اس کا بھی یہی نتیجہ ہوگا''۔
                                              پیش لفظ: ہندوستانی اخبار نویسی کمپنی کے عہد میں:محمد عتیق صدیقی صفحہ5-
انگریزوں کو یہ بات اچھی طرح معلوم تھی کہ صحافت اور سامراجیت میں ازلی دشمنی ہے۔ انہیں معلوم تھا کہ وہ  ہندوستان میں جس طرز حکومت کو پروان چڑھانے میں لگے ہیں آزاد اخبار نویسی سے اس پر آنچ آئے گی ۔ ظلم و ذیادتی کا یہ دور1835تک جاری رہا لیکن کہا جاتا ہے کہ ظلم کی ٹہنی صدا پھلتی نہیں آخر کو1835میں مٹکاف کو اس قانون کو منسوخ کرنا پڑا۔ قانون منسوخ ہوتے ہی ہندوستانی اخبارات نے کھل کر لکھنا شروع کیا۔ یہاں ایک انگریز مورخ گارسادتاسی کا بیان پیش کرنا چاہتا ہوں جو اس نے ہندوستانی اخباروں سے متعلق اپنے خطبات میں کہے تھے۔پیش ہے خطبہ نمبر218سے یہ اقتباس:
            ''ان منحوس کارتوسوں کی تقسیم کے موقع پر ہندوستانی اخباروں نے جو بد دلی پھیلانے میں پہلے ہی سے مستعدی دکھا رہے تھے، اپنی غیرمحدود آزادی سے فائدہ اٹھایا اور اہل ہند کو کارتوس کو ہاتھ لگانے سیانکار کرنے پر آمادہ کیا، اور یہ باور کرایا کہ اس حیلے سے انگریز ہندوستانیوں کو عیسائی بنانا چاہتے ہیں''۔
کچھ یہی خیال گورنر لارڈ کینگ کا بھی تھا جس کا اظہار اس نے اپنے انداز سے کیا تھا۔اس قانون کو صحیح ٹھہراتے ہوئے لارڈ کینگ نے 13جون1857کو کاؤنسل میں کہا تھا کہ:
''اس بات کو لوگ نہ تو جانتے  اور نہ سمجھتے ہیں کہ گزشتہ چند ہفتوں میں دیسی اخباروں نے خبر شائع کرنے کی آڑ میں ہندوستانی باشندوں کے دلوں میں دلیرانہ حد تک بغاوت کے جذبات پیدا کردیے ہیں۔ یہ کام بڑی مستعدی، چالاکی اور عیاری کے ساتھ انجام دیاگیا''۔
 یہاں درج لارڈ کینگ کے بیان کا آخری جملہ نہایت عیارانہ ہے کیوں کہ1857کی بغاوت سے پہلے تک کے اخبارات کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ دیسی اخبارات خصوصاً اردو اخبارات کا رویہ انگریزوں کے تئیں معاندانہ نہیں تھا لیکن جوں جوں ان سامراجیوں کی حرفت بازیاں بڑھیں دیسی اخبارات خصوصاً دہلی اردو اخبار کی حیرت مخالفت میں تبدیل ہوتی چلی گئی اور یہ اخبار کھل کر انگریزوں کی مخالفت اور بہادرشاہ ظفر کی حمایت کرنے لگا۔
 یہی وجہ ہے کہ جب جدوجہد آزادی کی پہلی جنگ1857 میں شرو ع ہوئی تو دہلی اردو اخبارکے ساتھ ساتھ صادق الاخبار اور سراج الاخبار دہلی میں بھی جنگ کی خبریں نہایت اہمیت کے ساتھ چھپنے لگیں۔ ان سبھی میں جذبات کو برانگیختہ کرنے والی نظمیں، مضامین، نصیحتیں اور انقلابی فتوے شائع ہونے لگے تاکہ مجاہدین آزادی کو حوصلہ دیا جاسکے، ان کے جذبات مہمیز کئے جاسکیں۔دیکھیں دہلی اردو اخبار میں گائے اور سور کی چربی لگے کارتوس استعمال نہ کرنے اور سپاہیوں کی بغاوت پر کس قدر بے باکانہ رپورٹنگ کی گئی :
''یوم یکشنبہ حمیت دینی اوحمیت مذہبی نے جوش کیا اور دفعتاتمام اہل پلٹن و رسالہ جو شخص جس حال میں تھا ہتھیار سنبھال کر اوّل جیل خانہ سے اپنے برادران اسلامی چھڑا لائے  اور مع پلٹن درپے انگریزوں اور گوروں کے ہوئے جہاں ملے تہ تیغ کیا حتیٰ کہ سب انگریز اور گورے مضطر دمدمہ میگزین میں محصور ہوئے اور غا زیان نامی راہئی دہلی ہوئے''۔
                                                             دہلی اردو اخبار....17 مئی   1857
دیکھیں ایک اور اقتباس جس سے پتہ چلتا ہے کہ مجاہدین کی ہمت افزائی میں مولوی محمد باقر کس قدر پیش پیش تھے۔رڑکی میں مجاہدین کے ذریعے انگریزوں کی ہلاکت کی خبر دہلی اردو اخبار میں یوں درج ہے:
 ''رڑکی سے ایک پلٹن وہاں کے انگریزوں کو مار کر اس طرف آئی تھی کہ میرٹھ میں ا ن گوروں کا سامنا ہوا ۔تائید الہی  و اقبال شہنشاہی  پلٹن نے ان لوگوں کو پسپا کر کے شکست دے دی وہ لوگ پھر اپنے دمدمہ میں گھس گئے اور دو سو گورے مارے گئے۔''
                                                          دہلی اردو اخبار17 مئی1857
 یہاں صرف دہلی کے اردو اخبارات کے حوالے سے بات کی جائے گی خصوصاً دہلی اردو اخبار کے حوالے سے۔ کیوں کہ دہلی اردو اخبار کو ہی اردو کا پہلا سیاسی اخبار ہونے کا شرف حاصل ہے۔ جس نے اپنی خبروں اور رپورٹوں وغیرہ سے 1857کی جدوجہد آادی میں اہم کردار نبھایا اور اسی جنگ کی نذر بھی ہوگیا۔ دیکھیں مجاہدین کی بغاوت کا ایک انداز جس کی جھلک17مئی1857 کے دہلی اردو اخبار کی رپورٹ میں اس طرح دکھائی دیتی ہے۔
                 ''روزشنبہ16تاریخ شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن و فی لیلة القدر سنہ رواں مطابق 11مئی1857،مسیحائی کوبہ باعث موسم گرما اول وقت کچہری ہورہی تھی، صاحب مجسٹریٹ محکمہ عدالت میں سرگرم حکمرانی تھیاور سب حکام اپنے اپنے محکموں میں سرگرم اجرائے احکام تھے اور حکم قید اور حبس سزائے جسمانی و طلبی مجرمین وغیرہ جاری ہورہی تھی کہ سات بجے کے بعد میر بحری یعنی داروغہ پل نے آکر خبردی کہ صبح کو چند ترک سوار چھاؤنی میرٹھ  کے پل سے اترکر آئے اور ہم لوگوں پر ظلم و زیادتی کرنے لگے اور محصول مجسمہ کا لوٹنا چاہا… قلعہ دار بڑے صاحب اورڈاکٹر صاحب و میم وغیرہ دروازے میں مارے گئے اور سوار قلعہ میں چلے آئے…شہر میں اول چند سوارآئے اور دریاگنج کے انگریزوںکو مارتے ہوئے اور دو بنگلے جلاتے ہوئے پیش اسپتال امبر قلعہ آئے اور چمن لال ڈاکٹرکو بھی دارالشفاء اصلی میں پہنچادیا۔ کہتے ہیں بڑے صاحب و قلعدار و ڈاکٹر وغیرہ چندانگریز کلکتہ دروازے پر کھڑے ہوئے دوربین لگائے سڑک میرٹھ کا حال دریافت کررہے تھے کہ دو سوار آئے اس میں سے ایک نے تپنچہ اپنا جھاڑ ا اور ایک انگریز کو مارگرایا اور باقی جوبچ کر آئے حسب تحریر مذکور الصدر دروازے قلعے میں آکر مارے گئے اور پھر اور سوار بھی آپہنچے اور شہر میں غل ہوگیا کہ فلاں انگریز وہاں ماراگیا اور فلاں انگریز وہاں پڑا ہے''۔
                                                                دہلی اردو اخبار17مئی185
دلی سے شائع ہونے والے تمام اخبارات میں دہلی اردو اخبار یوں اہم ہوجاتا ہے کہ اسے ہی اردو کا پہلا سیاسی اخبار ہونے کا شرف حاصل ہے جس نے ہماری جنگ آزادی میںنمایاں اور اہم کردار ادا کیا۔ گوکہ ''جام جہاں نما'' کو اس کے ضمیمے کی رو سے اردو کا پہلا اخبار قرار دیا جاتا ہے لیکن اس اخبار نے جنگ آزادی میںکسی قسم کا کردار نہیں نبھایا تھا اور نہ ہی اس میں اس قسم کے مواد شائع ہوا کرتے تھے۔ جب کہ  ہندوستانی صحافت کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ ''دہلی اردو اخبار'' نے آزادی ہند کو ہی اپنا  نصب العین بنالیاتھا اور شعوری طور پر جنگ آزادی کو پروان چڑھانے میں حصہ لیا تھا۔ اس اخبار نے اس دور کی تمام حشر سامانیوں کا بیان کچھ اس طرح شائع کیا کہ آزادی کے جیالوں اور متوالوں میں جوش و ولولہ پیدا ہو اور وہ فتح و ظفر سے ہمکنار ہوسکیں۔ پروفیسر خواجہ احمد فاروقی مقدمہ''دہلی اردو اخبار'' میں اس اخبار کے متعلق رقمطراز ہیں :
''دہلی اردو اخبار شاہ جہان آباد دہلی کا پہلا اردو اخبار تھا جس کے مطالعے سے مومن، غالب، شیفتہ، آزردہ، ذوق اور ظفر کاسارا ماحول اپنی پوری حشرسامانیوں کے ساتھ ہی آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے اور ہم اس جام جم میں دو دنیاؤں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں جس میں ایک ابھرتی ہوئی اور دوسری ڈوبتی ہوئی ہے''۔
اگر ہم 1857یا اس کے آس پاس شائع ہونے والے اخبارات کا بہ نظر غائر مطالعہ کریں تو یہ صاف محسوس ہوتا ہے کہ ان سیدھے سادے اور معصوم اخبارات میں جن کا مقصد بظاہر اصلاحی ہوا کرتا تھا کہیں نہ کہیں احتجاجی اور باغیانہ خیالات کسی ساکت سمندر میں زیریں لہروں کی شکل میں موجود رہتے ان میں دہلی اردو اخبار نہایت نمایاں نظر آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 11مئی کے بعد دہلی اردو اخبار کا جو شمارہ 17مئی کو آیا اس میں 1857کی جدو جہدآزادی کی رپورٹنگ کچھ اس انداز سے کی گئی تھی کہ اس کا قاری پورا منظر اپنی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتا ہوا محسوس کرتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ اردو اخبار کا یہ ایڈیشن ''ظہور بغاوت ''ایدیشن تھاجس نے پورے ملک میںجوش ،جذبہ اور انتقام و اتحادکا پیغام عام کیا تھا۔ حالانکہ1857ء کی پہلی جنگ آزادی سے پہلے تک کے ''دہلی اردو اخبار'' کے مطالعے سے  یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ اس اخبار میں بھی دیگر اخبارات کی طرح دہلی کی سیاسی، معاشی، مجلسی اور تمدنی زندگی پر روشنی ڈالی جاتی تھی، رپورٹیں پیش کی جاتیں تھیں لیکن جابجا مضامین میں انگریزوں کی مشنری سرگرمیوں کا جواب بھی دیا جاتا تھالیکن ہندوستان کے خلاف  جوں جوں ان سامراجیوں کی حرفت بازیاں بڑھیں دہلی اردو اخبار کا رویہ بھی مخالفت میں تبدیل ہوتا چلاگیا جس کا احساس انگریز افسران کو بھی تھا اور اس کا اظہار لارڈ کیننگ نے بھی ایک بار بڑے ہی عیارانہ انداز میں کیا تھا کہ اخبارات انگریزوںکے خلاف بغاوت کے جذبات پیدا کر رہے ہیں۔
شہید صحافت، مولوی محمد باقر بھی میدان صحافت کے انہیں جاں باز اور حق پرست سپاہیوں میں سے ایک تھے  بلکہ وہ اس قبیل کے سردار و پیشوا تھے جنہوںنے اپنے اخبار ''دہلی اردو اخبار'' میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور اس کے حکام کی مکروہ کارکردگی پر مردانہ وار حملہ کیا کیوں کہ مولوی صاحب برائی اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اپنا اولین فرض سمجھتے تھے اور انہیں یہ احساس ہوگیا تھا کہ انگریزوں کی غلامی اور ان کے ذریعہ تھوپی گئی سامراجی لعنت کو ختم کرنے کے لیے ان کا اخبار بہت اہم رول ادا کرسکتا ہے۔ یہی و جہ ہے کہ دہلی میں جب تک پہلی جنگ آزادی(1857 کا غدر) جاری رہی اس وقت تک دہلی اردو اخبار نے اپنی صفحات جنگ آزادی کو کامیاب کرنے کے لیے وقف کردیے۔ مولانا نے اپنے اخبار میں غدر کی خبریں بڑے ہی اہتمام سے شائع کیں، جذبات کو برانگیختہ کرنے والی نظمیں شائع کیں، پرجوش ولولہ انگیز باغیانہ مضامین اور نصیحتوں کو روزانہ شائع کیا یہاں تک کہ علمائے کرام کے انقلابی فتوؤں کو بھی اخبار کی زینت بنایا۔ انہوںنے اس اخبار میں روحانی بزرگوں کے خواب بھی نمایاں طور پر شائع کیے جس میں انگریزی حکومت کے خاتمے کی بشارت کا ذکر ہوتا یعنی مجاہدین آزادی کی رگوں میں روانی خون تیز کرنے کے تمام لوازم کو اخبار میں جگہ دینا ہی دہلی اردو اخبار کا اولین مقصد تھا۔ مولانا نے اس بات کا خاص اہتمام کیا تھا کہ ہندوستان کے کونے کونے سے مجاہدین آزادی کے دہلی آنے اور یہاں ان کے جنگی کارناموں، انگریزوں سے مجادلوں و مقابلوں اور ان پر فتح و ظفر حاصل کرنے کی رپورٹیں اور ان کی تفصیل خصوصی طور پر شائع کی جائیں اور یہ بھی بتایا جائے کہ ہندوستان کے کن کن مقامات پر انگریزی فوجوں کا مجاہدین آزادی نے قلع قمع کردیا ہے۔شاید یہی وجوہ تھیں جن کی بنا پر12 جولا ئی  کو 1857دہلی اردو اخبار کا نام بدل کر ''اخبارالظفر'' کردیاگیا حالانکہ تبدیلیٔ نام کی وجہ یہ ظاہر کی گئی تھی کہ اسے بہادر شاہ ظفر نے اپنے نام سے مناسبت دی تھی۔ پیش ہیں ''دہلی اردو اخبار'' کے چند اقتباسات جس سے محولہ بالا نکات پر روشنی پڑتی ہے۔17مئی1857 کے دہلی اردو اخبار کے ایڈیشن میں میرٹھ کا حال اس طرح قلم بند ہے:
''…رسالہ ترک سواران غازی کا اور پلٹن نام پہلے سے برسرپر خاش تھی اور ان سے بابت کارتوس کے کہ…چربی اور جھلی وغیرہ اس پر منڈھی ہوئی ہے۔ مثل پلاٹن مقامات دیگر حسب مندرجہ اخبار سابق  تکرار درپیش تھی کہ انجام کو بجرم انکار85سوار اس میں سے قید ہوئے کہ یوم یکشنبہ حمیت دینی اور حمایت مذہبی نے جوش کیا اور دفعتاً تمام اہل پلٹن اور رسالہ جو شخص جس حال میں تھا ہتھیار سنبھال کر اول جیل خانہ سے اپنے برادران اسلامی کو چھڑالائے اور معہ پلٹن درپے انگریزوں اور گوروں کے ہوئے…''۔
(دہلی اردو اخبار،17مئی1857ئ)     
اسی طرح24مئی1857ء کا اخبار دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ اس میں مولانا آزاد کی ایک نظم جو کہ19اشعار پر مشتمل ہے، شائع ہوئی ہے۔ عنوان ''تاریخ انقلاب عبرت افزائ'' ہے جس کے ہر شعر میں ایک جہان معنی پوشیدہ ہے۔ اس کے علاوہ اسی اخبار میں کول، بلند شہر، کانپور، لکھنؤ، آگرہ، جھجھر، سکندر، غازی آباد، بلب گڑھ، میرٹھ اور دہلی میں جاری جنگ آزادی کی رپورٹیں شامل ہیں اور تقریباً سبھی میں مجاہدین آزادی کے ذریعہ انگریزوں کو قتل کئے جانے، ان کے مال و اسباب لوٹ لیے جانے وغیرہ کی خبر درج ہے۔ ملاحظہ فرمائیں بلند شہر سے متعلق یہ خبر جہاں مجاہدین آزادی نے انگریزوں کو مارڈالا اور قیدیوں کو جیل سے چھڑالیا:
''…بلند شہر میں بھی سنا ہے کہ سپاہ نے انگریزوں کو مارڈالا جو کوئی قسمت سے بھاگ گیا سو بھاگ گیا۔ باقی سب مارے گئے۔ قیدی جیل خانے کے تمام چھوٹ گئے اور کوٹھیاں انگریزوں کی تباہ و برباد ہوئیں…''
(دہلی اردو اخبار،24مئی1857ئ)   
یہ تو تھیں چند جھلکیاں جو مولانا محمد باقر کے اخبار کی زینت بنیں۔ حق تو یہ ہے کہ یہی ہندوستان کا واحد سیاسی اخبار تھا جس نے نہ صرف ہندوستانیوں کے جذبات کو بیدار کرنے کا کام کیا بلکہ اردو کے دیگر اخبارات کو راہ عمل بھی دکھائی تاکہ وہ بھی انگریزوں کے خلاف آزادی کے حصول میں کوشاں ہوں ۔ اس کی بہترین مثال ''دہلی اردو اخبار''کی وہ اپیل بھی یہ جس میں مولوی محمد باقر نے عوام سے جان کی بازی لگانے اور مجاہدانہ عمل بجالانے کا اعادہ کیا تھا اور کہا تھا کہ:
 'ہندو،مسلمان متحد ہوکر جان کی بازی لگادو اور مجاہدانہ شان سے انگریزوں کا خاتمہ کردو…''
مندرجہ بالا بیانات سے علاّمہ باقر کے سیاسی شعور اور جذبہ حریت کا اندازہ ہوتا ہے کیوں کہ اس قسم کی اپیلوں، مضامین، خبروں، رپورٹوں، نظموں و عظوں اور فتوؤں وغیرہ سے انگریز افسران نہ صرف ان سے برہم ہوگئے تھے بلکہ ان پر اپنے اخبار کے ذریعہ بغاوت بھڑکانے کا الزام بھی لگانے لگے تھے۔ پھر بھی آپ نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی منزل کی جانب گامزن رہے۔انہیں مجاہدانہ کاوشوں کی پاداش میں ان پر جھوٹے الزام لگائے گئے اور14ستمبر1857کو انہیں گرفتار کرلیا گیا جس میں سب سے بڑا الزام یہ تھا کے انہوں نے جدو جہد آزادی کے دوران اپنے ہم وطنوں کا ساتھ دیا اور انگریز افسر ٹیلر کو قتل کرانے میں کلیدی رول ادا کیا جبکہ اس عظیم سانحہ کے وقت بھی انہوں نے کوشش کی کہ انسانیت  پر آنچ نہ آنے پائے اور یہی وجہ تھی کہ جب ٹیلر انکے گھر موت سے امان مانگنے آیا تو اسکے ساتھ مہمانوں جیسا سلوک کیا اور کوشش کی کہ اسکی جان بچ جائے، جب موت اسکا پیچھا کرتی ہوئی ان کے گھر تک آن پہونچی تو بھی اسے بھیس بدل کر باہر جانے کو کہا ورنہ وہ شخص جو اس کارزار میں اس قدر اہم کام انجام دے رہا تھا شکارکب اپنے ہاتھ سے جانے دیتا۔ 1857 کی جنگ آزادی کے بعداوائل جولائی میں جب انگریزوں کا پلہ بھاری ہو رہا تھا اور وہ پھر سے دہلی پر قابض ہونے لگے تھے ملک میں مخبری کا بازار گرم تھا۔اسی زمانے میں انگریزوں نے ایک اشتہار شائع کیا جس کا روئے سخن دہلی اور نواح دہلی کے مسلمان تھے انہوںنے اس اشتہار میںیہ پیغام دینے کی سعی کی تھی کہ وہ مسلمانوںکو غدر کا ذمہ دار نہیں مانتے بلکہ اس فتنہ کا ذمہ ہندوئوں کے سر ہے اور یہ انہیں کی سازش کا نتیجہ ہے۔اس اشتہارمیں کارتوسوںسے متعلق وضاحت کی گئی تھی کہ اس میں سور کی چربی نہیںملائی گئی ہے بلکہ گائے کی چربی استعمال کی گئی ہے بہ ظاہر یہ اشتہار مسلمانوں کو اپنی طرف ملانے کی غرض سے تھالیکن اس میں بھی مسلمانون کے نظریہ جہاد،دین اسلام ،شریعت،اور دیگر امور کے متعلق حجتیں کی گئیں تھیںبلکہ سچ تو یہ ہے کہ اشتہار مفسدانہ انداز لئے ہوئے تھا دیکھیں اس اشتہار کا متن :
''آگاہ ہو کہ رعایا خاص ودیعت خدا ہے اور حاکم لوگ ان پر بہ منزلہ شہان کے ہیں۔جس دن سے دہلی میں ہمارے سرکش نوکرون نے از راہ نمک حرامی گستاخیاں کرکر حکام معہ ان کے زن اور فرزندوں کے از راہ ستم بے دریغ تہ تیغ کیا اور شہر کو ملجا اپنا بنایااور رعیت پر ظلم روا رکھا اور ان کامال بہ معیت اوباشان شہر دستبرد کیا ۔بادشاہ کو بھی قید کیا چنانچہ بادشاہ کی برابران کی ستم شعارون سے شکایت سنی گئی۔اب ہم کو ان کے تنبیہ دینی فرض ہے جو یہاں پر اخیام (اخیار)ذو احتشام ہمارے قائم ہو ئے دریافت ہوا کہ بعضے جاہل نا عاقبت اندیش کے ہمراہ اس فوج سرکش کی غارت گری  میں شریک الحال تھے۔بنام جہاد کے آمادہ فساد ہوئے اورچند بار بہ معیت اون کے آکر جدال و قتال میں شریک ہوکراپنے تئیںہلاکت میںڈالا۔پس ہم کو ان لوگوں کو بلکہ گروہ مسلمین کو اطلاع اس امر کی (دینا)پر ضرور ہے۔اول تو مسلمان با ایمانوںکو بموجب ان کی شرع کے واجب تھا کی تحقیق امربالانزاع کے شواہد عادل کرتے یا بادشاہ صاحب اپنے سامنے اوس کی کیفیت ۔اگر ہماری نسبت میں کچھ زیادتی ثابت ہوتی اسوقت حکم ہمارے قتل کا اور قتال کا بنام جہاد کرتے۔اب ہم علماء دین سے مسئلہ ارکان جہاد و شرائط اوس کے دریافت کرتے ہیںاور بہ حلف انجیل شریف کے کہتے ہیںکہ یہاںسے کلکتہ تک کسی حاکم کی رائے یہ نہیںہوئی کہ سپاہ مسلمین کو کارتوس ساختہ چربی خوک اور آرد مشمولہ استخوان ہائے خو ک واسطے بگاڑنے ان کے دین کے دیویں۔۔۔اور جو کوئی جاہل از راہ جہل مرکب نے یہ کہے کہ بگاڑنا دین کا منظور تھا ،اس حالت میںیہ سوال ہے کہ آیا لحم خوک کھانے سے مبتلائے گناہ کبیرہ ہوتا ہے یا بمجرد خورش کے خارج از اسلام ہو جاتا ہے اور جو کوئی حاکم جہاد حکم ارتکاب مناہی کرے اس وقت پر اگر تاب مقابلہ کی رکھتا ہو تب تو ارتکاب اس امر سے انکار کر سکتاہے ۔یہی نہیں کہ اون کے قتل معہ زن و بچہ کرے اور اب یہ بھی بہ گوش دل سنا چاہئے کہ سپاہ مسلمین کو سپاہ ہنود نے کہ ناقص العقل ہیںاغوا کیا۔نفس الامر میںکارتوس مشمولہ چربی گائووغیرہ جانوران حلا ل بخیال اسکی سرکار کو مہم روس و ایران پیش تھی اور اس ضلع میں برف باری ہوتی تھی  جب اس ارادہ اوس کے تقسیم کا کیا تب قوم ہنود نے یہ ڈھکوسلہ باندھا کہ ہم کو کارتوس چربی گائو دیا چاہتے ہیںاور مسلمانوں کو چربی خوک کی۔ فرقہ سپاہ جو ناعاقبت اندیش ہوتی ہے ،سرکشی پیش کی اور بلوہ کیا اور رعیت کو بھی بہکایا پس اہل شہر تم آگاہ ہو کہ اول تومقصود سزا وہی سپاہ ہنود کی ہے اور جو ان کی معیت و حمایت کریںگے اون کے تئیں بھی سزا دی جائے گی۔تم کو چاہئے کہ  بموجب حکم شرعی کے ہمارے شریک حال ہو کر اہل ہنود کو قتل کر و۔ورنہ یہ کہ ہم پر بلا تحقیق اور بلا امام کے آمادہ بہ پیکار ہو فقط۔ یہاں تمام ہوا مضمون اشتہار کا۔''
     اس اشتہار کے ذریعہ کی جانے والی ان کی یہ حکمت عملی پوری طرح ناکام رہی اور ہندو و مسلمان سبھی نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیااور اس کا جواب علمائے شہر کی جانب سے شائع کیا گیا جو مولوی باقر کے چھاپہ خانہ سے شائع ہوا ۔ملاحظہ فرمائیں چند جوابات جو دہلی اردو اخبار میں شائع ہوئے تھے جس کی وجہ سے بھی مولوی باقر کی گرفتاری ہوئی ۔مولوی باقر نے اس اشتہار کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ اگر کمپنی خود کو رعایا کامحافط اور امانت دار جانتی ہے یو سب سے پہلے وہ امانت دار کی امانت یعنی ہمارا ملک واپس کردیا اور جن لوگوںکا دھرم ایمان برباد کیا ہے اسے بحال ہونے دے،جن کی جاگیریں ضبط کیں ہین ان کی جاگیریں واپس کرے ،بادشاہ سلامت پر روا رکھی جانے والی اذیتوں کا خاتمہ کریاس کے علاوہ دین اسلام پر جو باتیں اشتہار میں کہی گئیں اس کا جواب مولوی باقر نے کچھ اس طرح دیا:
''تم نے ہمارے واجبات شرعی کی کسی تعمیل کی طاقت ہم میں کب چھوڑی تھی کہ آج شرع شریف کا نام زبان پر لاتے ہو ئے (تمہیں)شرم نہ آئی۔''
آگے انہوںنے لکھا کہ:
 ''سب سے زیادہ ظلم یہ ہے کہ مکان لعل بنگلہ جس میں سلاطین عظام و اہل خاندان شاہی مدفون تھے(یعنی)مردوںکی قبریںتک اکھاڑ ڈالیںاور کچھ پاس و آداب و اسلام و شقہ حضور والا کا بھی نہ کیا۔''
گائے اور سور کی چر بی سے متعلق اشتہار کا جواب انہوںنے یوںدیا:
''اس سے صاف جھلکتا ہے کہ ان کارتوسوں میں چربی خوک وگیرہ لگی تھی۔۔۔لحم خوک کھانے کے بارے میں یہ لوگ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ کون سا گناہ کیسا کبیرہ  (ہے)(اور)کون سا کبیرہ فوراکفر کو پہنچ جاتا ہے۔''
اشتہار کے حوالے سے ہندو مسلم اتحاد کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے لکھا:
''خود(اہل کمپنی )لکھتے ہیں کہ چربی گائو کی تھی،کوئی پوچھے کہ کیا اس سے دین ہندو کا نہیں بگڑتا۔۔۔سپاہ اسلام عین عاقبت اندیشی سے سمجھ گئے کہ آج یہ ظلم ہندو پر ہے (تو)کل ہم پر ہے۔''
    مندرجہ بالامباحث کی روشنی میں یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ علاّمہ محمد باقر میں سیاسی شعور اور جذبہحریت بدرجہ اتم موجود تھااور وہ ایک سچیمحب وطن تھے کہ یہی ایک سچے مسلمان کی نشانی ہے۔ان کی شہادت سے متعلق کئی روایتیں مشہور ہیںاور اس بارے میں محققین  میں کافی اختلاف ہے کہ انھیں توپ کے دہانے پر رکھ کر اڑا دیا گیا،گولی مار دی گئی یا کوئی اور طریقہ اختیار کیا گیالیکن مولوی ذکاء اللہ ،آغا محمد باقراور جہاں بانو نقوی لے علاوہ ان سبھی حضرات نے جنہوں نے ان کی شہادت کے متعلق تحقیق کی ہے اس بات پر متفق ہیں کہ مولوی محمد باقر کو پرنسپل ٹیلر کے قتل کے الزم میں موت کی سزا دی گئی جو جنگَ آزادی کی ناکام لڑائی کے وقت ہلاک کر دئے گئے۔یہاںمیںعلاّمہ باقرکی شہادت سے متعلق مولوی عبد الحق کا تحریر کردہ بیان پیش کرنا چاہوںگا جس میںانہوںنے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کی شہادت کن حالات میں واقع ہوئی۔ملاحظہ  فرمائیں یہ اقتباس جس سے اس امر پر روشنی پڑتی ہے:
''........بہ ہزار دقت ٹیلر صاحب کالج کے احاطے میں آئے اور اپنے بڈھے خانسامہ کی کوٹھری میں گھس گئے۔اس نے انھیں مولوی محمد حسین آزاد کے گھر پہنچا دیا۔مولوی محمد باقر کی ان سے بڑی گاڑھی چھنتی تھی۔انھوں نے ایک رات کو ٹیلر صاحب کواپنے امام باڑہ  میں چھپانے کی خبرمحلے میں عام ہوئی تو مولوی صاحب نے ٹیلر کو ہندوستانی لباس پہنا کر چلتا کر دیا۔مگر ان کا بڑا افسوس ناک حشر ہوا غریب بہرام خان کی کھڑکی کے قریب جب اس سج دھج سے پہنچے تو لوگوں نے پہچان لیا اور اتنے لٹھ برسائے کہ بیچارے نے وہیں دم توڑ دیا ۔بعد میں مولوی باقر صاضب صاحب اس جرم کی پاداش مین سولی پر چڑھائے گئے اور ان کا کوئی عذر نہ چلا۔مولوی محمد حسین آزاد کا بھی وارنٹ کٹ گیا تھا۔مسٹر ٹیلر کے مارے جانے میں ان کی بھی سازش خیال کی گئی اور ان پر بھی قوی شبہ تھا مگر یہ راتوں رات نکل بھاگے اور کئی سال تک سر زمین ایران میں بادیہ پیمائی کرتے رہے جب معافی ہوئی تو ہندوستان واپس آئے..........''
            (مرحو م دلی کالج۔مولوی عبد الحق،صفحہ ٦١)
    یہ تو مولوی عبدالحق کا بیان تھا۔تاریخ کے صفحات کی ورق گردانی سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیںمولانا محمد حسین آزاد نے بھی اپنے والد کی شہادت کی تفصیل  بتائی ہے جسے پروفیسر عبد القادر سروری نے اپنی تصنیف "Famous Urdu Poets and Writers" میں یوںنقل کیا ہے ۔وہ لکھتے ہیںکہ جب ٹیلر کو مولوی باقر نے ہندوستانی کپڑے میں مکان کے پچھلے حصے سے باہر نکال دیا اس کے کچھ دیر قبل ٹیلر نے ایک کاغذ کا بنڈل انکے حوالے کیااور کہا کہ :
''........دلی پر انگریزوں کا دوبارہ تسلط ہو جائے تو پہلا انگریز جو تمھیں نظر آئے یہ بنڈل اس کے حوالے کر دینا ۔مولوی صاحب کو اس کی خبر نہ تھی کہ اس بنڈل کی پشت پر ٹیلر نے لاطینی زبان میں کچھ لکھ بھی دیا ہے ۔جب دلی پر انگریزوں کا تسلط ہو گیا تو مولوی صاحب نے وہ بنڈل ایک انگریز کرنل کے سامنے پیش کر دیاان کو گمان بھی نہ ہو سکتا  تھا کہ یہی ان کی موت کا حکم نامہ ہے۔ٹیلر نے لکھا تھا......
.''مولوی محمد باقر نے شروع میں ان کو اپنے مکان میں پناہ دی لیکن پھر ہمت ہار دی اور ان کی جان بچانے کی کوشش نہ کی ۔کرنل نے بنڈل الٹ پلٹ کر دیکھا اور مولوی صاحب کو فوراً گولی مار دی گئی اور ان کی جائیداد بھی بحقِ سرکار ضبط کر لی گئی۔''
                        (فیمس اردو پوئیٹس اینڈ رائیٹرس۔صفحہ ،١٤٠)
    مندرجہ بالا دونوں بیانات خصوصاً محمد حسین آزاد کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ مولوی محمد باقر نے از روئے دوستی و انسانیت مسٹر ٹیلر کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی ورنہ انہیں اپنے گھر اور امام باڑہ میں پناہ نہ دیتے ،انہیں ہندوستانی لباس پہنا کر گھر کے پچھلے دروازہ سے باہر نہ نکالتے بلکہ انھیں قصاص پر آمادہ لوگوں کے حوالے کر دیتے۔اس کا احساس مسٹر ٹیلر کو بھی تھا کیونکہ اس نے بھی  لاطینی زبان میں جو تحریر لکھی تھی اس میںاس بات کا اعتراف کیا  ہے کہ مولوی باقر نے انہیں پناہ دی لیکن بعد کو کسی غلط فہمی کی بنا پر اس نے یہ سمجھ لیا کہ وہ انہیں بچانے کی کوشش نہیں کر رہے ہیں۔دوم یہ کہ اگر مولوی باقر کے دل میں اس قسم کا خیال آیا ہوتا تو وہ اس بنڈل انگریزوں کے حوالے کرنے ہی ہ جاتے جسے ٹیلر نے انہیں جاتے وقت دیا تھا۔ یہ ساری باتیںاس امر کی بین دلیل ہیں کہ مولوی باقر کو کسی سے ذاتی دشمنی نہ تھی ،وہ انسانیت کے دشمن نہیںتھے بلکہ انہوں نیہندوستانی عوام کے حق کی خاطر آواز بلند کی تھی۔
     اس طرح ہم اس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ مولوی محمد باقر کو ان کی حب الوطنی اور جنگِ آززادی میںان کے رول خصوصاً ان کے اخبار ''دہلی اردو اخبار''کی وجہ سے اس انجام کو پہنچنا پڑا اور وہ انگریزوں کی سامراجی ذہنیت اور سازش کے شکار ہو گئے ۔اس حقیقت سے کسے انکار ہو سکتا ہے کہ جنگِ آزادی کے اس متوالے اور قلم کے اس عظیم سپاہی نے آخر وقت تک ایک سچے محب وطن اور ایماندار صحافی ہونے کا مکمل ثبوت پیش کیا اور اپنی گرفتاری سے قبل تک مختلف مصائب و آلام کا سامنا کرتے ہوئے اخبار شائع کرتے رہے کیونکہ ان کی نظر میں صحافت ایک نہایت ہی مقدس پیشہ تھاجس کے ذریعہ نہ صرف حب الوطنی کو فروغ دیا جا سکتا ہے،۔تحریکیں پروا ن چڑھائی جا سکتی ہیں بلکہ قوموں کی تقدیریں بھی بدلی جا سکتی ہیں ۔اپنے اس پیمانہ صحافت پر کار بند رہتے ہوئے انہوں نے جنگِ آزادی کو کامیاب بنانے کی حتیٰ المقدور سعی کی اور دامے درمے ،قدمے،سخنے ہر طرح سے پیش پیش بھی رہے ،خواہ اس کا انجام جوکچھ بھی ہوا
     سامراجی ذہنیت کے نقیب انگریزوں نے 16ستمبر1857کوانہیں شہید کر دیا ۔یہاں ایک واقعہ اور درج کرتا چلوں کہ کیپٹن ہڈسن کے حکم سے جب انہیں دہلی گیٹ کے باہر خونی دروازے کے سامنے شہید کیا جانا تھا اس سے قبل وہ عبادت الٰہی میں مشغول تھے تبھی ان کی نظر اپنے لخت جگرمحمدحسین آزاد پر پڑی جو اپنے والد کے وفادار دوست کرنل سکندر سنگھ کی مدد سے ان کا آخری دیدار کرنے جائے شہادت پر آئے تھے۔آزاد سائیس کا بھیس بدلے ہوئے تھے جب مولانا باقرنے نماز پڑھ کر دعا کے لئے ہاتھ بلند کیا  تو ان کی نظراپنے بیٹے پر پڑی جو عالم مفلسی میںگھوڑے کی باگ سنبھالے ہوئے تھے دونوں کی آنکھیںآنسوئوں سے چھلک رہی تھیں،باپ بیٹے نے زبان بے زبانی سے ایک دوسرے سے کچھ کہاآنسوئوں کے قطروں نے حال دل بیان کیا مولانا نے دعا کے انداز میں خداحافط کہا ،ادھر شہادت کا وقت آگیا فرنگی کپتان نے گھوڑا دبایااور 77 سالہ مجاہدقوم اپنی مجاہدانہ آن بان کے ساتھ درجہ شہادت پر فائز ہو گئے اور فرنگیوں کو یہ پیغام دے گئے کہ:
تمہیں ہے سر کی ضرورت ہمیں شہادت کی
 تم اپنا کام سنبھالو ہم اپنا کام کریں
 Refrences
(1)  رہبراخبار نویسی، اقبال قادری ، ترقی اردو بیورو نئی دہلی2000ئ
(2)  ہندوستانی اخبار نویسی کمپنی کے عہد میں، محمد عتیق صدیقی ،انجمن ترقی اردو علی گڑھ،1957ئ
(3) گارساں دتاسی خطبہ218istory of Sepoy War in India (Sir John I, II, III Vol)(4)
(5) An Essay on the Causes of the Indian Revolt (Sir Sayed Ahmad Khan 1859)
(6)  دہلی اردو اخبار،17ئی1857ئ    -Sajan Lal,1950(7) Islamic Culture
(8) 1857کے اخبارات اور دستاویز،محمد عتیق صدیقی    (9)  دہلی اردو اخبار،18مئی1857
(10)  دہلی اردو اخبار،24مئی1857ئ    (11)  امداد صابریـروح صحافت، مکتبہ شاہراہ اردو بازار، دہلی1968ھ
(12)محمد حسین آزاد حیات اور کارنامے،ڈاکٹر اسلم فرخی    (13)اردو ادب اور 1857 ،ڈاکٹرمحمد سبطین
(14)انقلاب 1857،پی سی جوشی،وقمی کونسل برائے فروغ ا ردو،نئی دہلی1998
(15)ڈاکٹر عبدالاسلام خورشید،صحافت پاکستان و ہند میں،مطبوعہ لاہور 1936

(بشکریہ ماہنامہ اصلاح)