16 خرداد 1399
  -  
2020 ژوئن 5
  -  
13 شوال 1440
 
منظور حسین
• منظور حسین •

 

۱۳۴۹/۱۹۳۰

۱۴۲۰/۱۹۹۹ء

شیعہ نگررجیٹی شہرغازی آباد کے مشرق میں تحصیل گڑھ مکٹیشور سے تقریبا چار میل جنوب میں ہے ۔ بستی کے نام میں شیعہ نگر کا اضافہ مولانا  منظور حسین نے کیا تھا ۔

آپ کے والد مولوی سعید احمد صاحب عاشق اہل بیت علیہم السلام تھے ۔ مجلسیں اور تحت اللفظ مراثی پڑھا کرتے تھے ، منظور حسین ان کی بڑی اولاد تھے ۔ مولانا ابن علی صاحب واعظ چھٹی اولاد تھے  اور پروفیسر علی مبصر صاحب نویں اور آخری ۔

مولانا منظور حسین ۱۵/ دسمبر ۱۹۳۰/ ۲۴/ رجب ۱۳۴۹ھ کو پیدا ہوئے ۔ وطن میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سیدالمدارس(  امروہہ) گئے ۔ ۱۹۴۱ میں جامعہ ناظمیہ میں داخل ہوئےاور ۱۹۵۰ میں ممتازالافاضل کی سند حاصل کی ۔ فارغ التحصیل ہونے سے چھ سال پہلے سے مدرسہ میں بطور مدرس کام بھی کرتے رہے تھے ۔ اپنے چھوٹے بھائی مولانا ابن علی صاحب کو ناظمیہ لے گئے ۔

۱۹۴۷میں آپ نے اپنے وطن میں کتاب خانہ سعیدیہ قائم کیا ۔ ۱۹۵۰ء میں آپ پاکستان چلے گئے ۔ اور لطیف آباد حیدر آباد کو وطن قرار دیا ۔ ۱۹۵۲ میں مولانا سید ثمر حسن صاحب زیدی کے ساتھ مل کر مدرسہ مشارع العلوم کاقیام عمل میں لائے اور کافی عرصہ تک وہاں تدریس میں مشغول رہے ، اس کے بعد حسینی مسجد لطیف آباد نمبر ۱۱ میں مشغول تبلیغ ہوگئے ۔ آپ نے درس و تدریس کے ذریعہ بے شمار علماء و فضلاء، پروفیسروں، سرکاری افسرون اور صوبائی و مرکزی وزاراء کی تربیت کی ۔

مولانا غلام مہدی نجفی اور مولانا عباس علی نجفی کے اسرار پر آپ دانشگاہ جعفریہ واگھریجی مہدی آباد سندھ تشریف لے گئے اور بارہ تیرہ سال تک اس دانشگاہ میں پرنسپل رہے ۔ آپ انتہائی سادگی کے ساتھ رہتے تھے ۔ گوشہ نشینی کی زندگی کو ترجیح دیتے تھے ۔ آپ کا شعار بیباکی و حق گوئی تھا ۔ سادات کرام کی بہت عزت کرتے تھے ۔ جوانوں کی تربیت اور ان کے مسائل حل کرنے میں انہماک تھا ۔ علالت کی بنا پر دانش گاہ جعفریہ سے اپنے وطن حیدر آباد واپس آگئے تھے۔ ڈیڑھ دو سال علاج جاری رہا ۔ آخر کار ۱۸ رمضان المبارک ۱۴۲۰/۲۷ دسمبر ۱۹۹۹ء کو شب دوشنبہ میں تقریبا ڈھائی بجے رات کو دار بقا کی طرف کوچ کیا ۔

نیچے آنے والی تفصیلات آپ کے ارتحال کی مناسبت سے چھپنے والی اس خصوصی اشاعت سے منقول ہیں جو موسسہ زینبیہ کی جانب سے منظر عام پر آئی۔ اس خصوصی اشاعت میں آپ کے بھائی شائق میرٹھی کا وہ قطعہ سب سے پہلے مکتوب ہے جو آپ نے مولانا موصوف کے لئے ان کی زندگی میں ہی کہا تھا اور جس میں موصوف کے نام کو ذومعنیین استعمال کرکے روضہ امام حسین علیہ السلام کی زیارت کا شرف حاصل ہونے کی دعا کی گئی ہے:

 

کب تلک آپ کے روضہ سے رہوں،دور حسین

بزم دل اب تو مسرت سے  ہو  معمور حسین

کب سے آنکھوں میں لئے بیٹھا ہوں  امید کا نور

اب  تو کرلیجئے  عرضی  مری  منظور حسین

شائق میرٹھی  ۱۹۷۷ء

استاذ الاساتذہ الحاج علامہ  منظورحسین ''ممتازالافاضل'' انہیں انسانوں میں سے ایک تھے جن کی پوری زندگی تعلیم و تعلم میں گزری ۔ درس و تدریس کے علاوہ آپ کی انتھک کوششوں کی بناپر تبلیغ اسلام اور عزاداری حضرت سیدالشہدا علیہ السلام کو کافی فروغ ملا۔

آپ کے والد محترم

 آپ کے والد مولوی سعید احمد طاب ثراہ دیندار پابند صوم و صلاۃ ہونے کے ساتھ ساتھ عاشق اہل بیت علیہم السلام تھے۔ بستی کی اکثر مجلسیں پڑھا کرتے تھے ۔ تحت اللفظ پڑھنے میں بھی مہارت رکھتے تھے ۔ آپ علماء کی بہت عزت کرتے تھے خواہ عالم دین سن رسیدہ ہو یا جوان یا نوجوان ۔ یوں تو آپ کو خداوند عالم نے اولاد کی نعمت سے فراخدلی کے ساتھ نوازا تھا ۔ جو اولاد بڑی ہوئی اور پروان چڑھی وہ اس ترتیب کے ساتھ ہے:۱۔ استاذ الاساتذہ علامہ الحاج منظور حسین صاحب قبلہ۲۔ جناب شرافت علی صاحب ۳۔ہمشیرہ محترمہ۴۔ جناب ذاکر حسین صاحب مرحوم۵۔ہمشیرہ محترمہ مرحومہ۶۔نجم الواعظین حجۃ الاسلام مولانا ابن علی صاحب قبلہ واعظ۷۔ جناب شبر علی صاحب مرحوم ۸۔ جناب منصور حسین صاحب مرحوم۹۔ جناب پروفیسر مولانا علی مبصر صاحب ۔

آپ کی ولادت

 آپ ۱۵دسمبر۱۹۳۰ء کو پیدا ہوئے ۔ اور چونکہ آپ کے والد اپنے ماں باپ کےتنہا چشم و چراغ تھے اور آپ ان کی پہلی اولاد تھے لہذا آپ کی ولادت کے موقعہ پر ماں باپ سے زیادہ دادا دادی خوشیوں سے سرشار تھے ۔ جس کا ذکر آپ کے والد مختلف مواقع پر کیا کرتے تھے ۔

 تعلیم و تربیت

ابتدائی تعلیم یعنی نماز وغیرہ اپنی والدہ سے سیکھی اور قرآن کے لئے اپنے والد بزرگوار کے سامنے زانوئے ادب تہہ کئے جناب سید ناصر علی زیدی صاحب مرحوم (جو عبداللہ پور میرٹھ کے رہنے والے تھے ۔ شیعہ نگر رجیٹی میں انتقال ہوا اور یہیں دفن ہیں)سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد زیدی صاحب اور والد مرحوم کی حوصلہ افزائی کی بنا پر سید المدارس امروہہ تشریف لے گئے ۱۹۴۱ء میں ''مشارع الشرائع'' جامعہ ناظمیہ لکھنؤ میں داخلہ لیا ۔ اور ۱۹۵۰ء میں ممتازالافاضل کی سند حاصل کی ۔ فارغ التحصیل ہونے سے پہلے تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ چھ سال بحیثیت مدرس جامعہ ناظمیہ میں خدمت انجام دیتے رہے ۔ لکھنؤمیں قیام کے دوران ہی آپ اپنے برادر عزیز نجم الواعظین جناب ابن علی صاحب قبلہ  واعظ کو ناظمیہ لے گئے اور ان کی تعلیم و تربیت میں دن رات ایک کردیا ، آپ اپنی بستی کے پہلے عالم دین ہیں ۔

اساتذہ

 استاذ الاساتذہ نے جن علماء و فضلاء سے کسب فیض کیا ان میں سے قابل ذکر یہ حضرات ہیں: ۱۔ آیۃ اللہ مفتی سید احمد علی صاحب مجتہد العصر طاب ثراہ لکھنؤ۲۔ آیۃ اللہ سید علی نقی صاحب مجتہد العصر طاب ثراہ لکھنؤ ۳۔ حجۃ الاسلام والمسلمین سید کاظم حسین طاب ثراہ ۴۔ فیلسوف اسلام علامہ عدیل اختر صاحب طاب ثراہ لکھنؤ ۵ ۔ حجۃ الاسلام والمسلمین سید ایوب حسین صاحب طاب ثراہ سرسوی ۶۔ حجۃ الاسلام والمسلمین سید رسول احمد صاحب طاب ثراہ ۔

تلامذہ

جامعہ ناظمیہ لکھنؤمیں قیام کے دوران آپ نے چھ سال تدریس کے فرائض انجام دیئے اس دوران آپ کے تلامذہ میں حسب ذیل حضرات نمایاں حیثیت کے حامل ہیں: نجم الواعظین حجۃ الاسلام الحاج مولانا ابن علی صاحب قبلہ واعظ ۲۔ خطیب اہل بیت مولانا ڈاکٹر سید کلب صادق صاحب قبلہ ۳۔حجۃ الاسلام والمسلمین الحاج سید ذیشان حیدر جوادی صاحب قبلہ

کتاب خانہ سعیدیہ

یہ کتاب خانہ تقریبا ۱۹۴۷ء میں استاذ الاساتذہ طاب ثراہ کے دست مبارک سے شیعہ نگر رجیٹی میں تاسیس ہوا ۔ آپ نے اس کتاب خانہ کو اپنے والد محترم مولوی سعید احمد طاب ثراہ کے نام سے منسوب کرکے یہ نام رکھا ۔

آپ کے پاکستان ہجرت کرنے کے بعد آپ کے بھائی نجم الواعظین الحاج مولانا ابن علی صاحب قبلہ واعظ نے اس کی توسیع کی اور ۱۹۷۸ء میں اس کا نام کتاب خانہ سعیدیہ زینبیہ سلام اللہ علیہا  رکھا ۔ فی الحال اس میں تقریبا ۲۵۰۰ کتابیں مختلف موضوعات پر موجود ہیں ۔

پاکستان ہجرت: آپ نے ۱۹۵۰ء میں وطن سے پاکستان کی طرف  ہجرت کی اور لطیف آباد حیدر آباد کو وطن قرار دیا۔ ۱۹۵۲ء میں مولانا سید ثمر حسن زیدی صاحب کے ساتھ مل کر مدرسہ مشارع العلوم کا قیام عمل میں لائے کافی عرصہ تک تعلیم و تعلم میں مشغول رہے اس کے بعد حسینی مسجد لطیف آباد میں مشغول تبلیغ ہوگئے ۔ آپ کا حسینی مسجد آنا علاقہ کے مومنین کے لئے انتہائی سود مند ثابت ہوا ۔ بے شمار جوانوں اور نوجوانوں کو صحیح نماز پڑھنا سکھایا اور قرآنی نور سے ان کے دلوں کو منور کیا ۔ اس درمیان آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔

شخصیت

استاذالاساتذہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہ تھی ۔ آپ کے چہرے کا اطمینان، سکون اور جذابیت ہی آپ کا تعارف کرادیتی تھی ۔ آپ سے ملاقات کرنے والا پہلی ہی ملاقات میں آپ کا گرویدہ ہوجاتا تھا ۔ آپ کا دل نور ایمان سے منور اور دماغ فکر سلام سے معمور تھا ۔ آپ کو گمنامی کی زندگی پسند تھی ۔

استاد

 آپ ہمیشہ کوشش کرتے رہے کہ جو علم دین حاصل کیا ہے اسے تشنگان علوم و معارف تک پہچائیں ۔ اس سعی پیہم کا نتیجہ یہ نکلا کہ صوبہ سندھ کے تقریبا ۹۵ فی صد علماء،فضلاء، دانشور، پروفیسر، سرکاری آفیسر اور وزیر (صوبائی، مرکزی)آپ کے شاگردوں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔ لیکن کبھی بھیآپ نے اس روحانی رشتہ کے ذریعہ کسی بھی طرح کا استفادہ  نہیں کیا ۔ پاکستان میں آپ کے تلامذہ میں حسب ذیل حضرات نمایاں حیثیت کے حامل ہیں:حجج الاسلام والمسلمین مولانا حیدر علی جوادی سندھ، مولانا عباس علی نجفی طاب ثراہ، مولانا محمد باقر نجفی سندھ، مولانا ثابت علی سندھ، مولانا جعفر حسین سندھ، مولانا غلام اصر نجفی، مولانا لئیق حسن نجفی، مولانا صادق علی نجفی، مولانا وزیر حسین کاظمی نجفی، مولانا شیخ محسن علی نجفی، مولانا صادق علی نجفی لاشاری، مولانا محمد صادق بلتستانی نجفی، مولانا نور الحسن نجفی، مولانا غلام اصغر خاضخیلی، مولانا غلام قنبر کریمی، مولانا سید محمد عباس زیدی نجفی صاحبان ۔

دانشگاہ جعفریہ

استاذالاساتذہ، حجۃ الاسلام والمسلمین غلام مہدی نجفی اور حجۃ السلام عباس علی نجفی طاب ثراہ کے ہما کے اصرار پر دانشگاہ جعفریہ واگھریجی مہدی آباد سندھ تشریف لے گئے اور تقریبا بارہ تیرہ سال تک پرنسپل کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے آپ  درسگاہ میں بہترین استاد اور دیگر مواقع پر عمدہ مربی اور دوست تھے ۔ مدرسہ میں آپ کا وجود شفیق باپ کی حیثیت رکھتا تھا ۔ آپ کا شعار حق گوئی تھا ۔ کبھی کسی ثروت مند سے مرعوب نہیں ہوئے اور نہ ہی کبھی امراء کی قربت کے حصول کے لئے دبے دبے اور نرم لہجہ میں گفتگو فرمائی ۔ آپ سادات کرام کا بہت احترام فرماتے تھے چاہے وہ عالم و فاضل ہو یا عام سادات میں سے ہو ۔ ضرورتمند کی حتی المقدور وامے درمے اور سخنے کمک فرماتے تھے ۔

احباب

استاذ الاساتذہ کے احباب کا حلقہ کافی وسیع تھا ۔ آپ نسل جوان کی تربیت کی طرف خاص توجہ رکھتے تھے آپ کا زیادہ تر وقت انہیں حضرات کے مسائل حل کرنے میں صرف ہوتا تھا ۔ ہم عمر دوستوں اور ساتھیوں میں ۱۔ حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ  غلام مہدی نجفی طاب ثراہ(موسس و سرپرست دانشگاہ جعفریہ سندھ)۔ حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا آقا حیدر طاب ثراہ (پرنسپل مدرسہ باب العلم نوگانواں سادات ہند)،حکیم سید احمد زیدی وغیرہم شامل ہیں ۔ 

آپ انتہائی سادگی کے ساتھ رہتے تھے ۔ عاشق اہل بیت علیہم السلام اور شاگرد مکتب امام صادق علیہ السلام تھے ۔ آپ کا شمار بزرگان ملت میں ہوتا تھا ۔ مگر  ہمیشہ گوشہ نشینی کی زندگی کو ترجیح دی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شخص آپ کا گرویدہ ہوجاتا تھا ۔ تقریبا ڈیڑھ یا دو سال قبل علالت کی بنا پر دانشگاہ جعفریہ سندھ سے اپنے وطن حیدآباد تشریف لے آئے تھے ۔ علاج بھی جاری تھا ۔ لیکن مرضی معبود کے سامنے بندے عاجز اور مجبور ہیں ۔ ۱۸/رمضان المبارک ۱۴۲۰ھ مطابق ۲۷/ دسمبر ۱۹۹۹ء دوشنبہ کو شب میں طبیعت زیادہ خراب ہوئی اور تقریبا ڈھائی بجے شب دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کیا اور تمام اہل خانہ اور اہل علم کو روتا بلکتا چھوڑکر چلے گئے ۔ آپ کے تین بھائی، ایک بہن، چار فرزند، سات پوتے اور ایک پوتی بقید حیات ہیں ۔ خداوندعالم سے کی بارگاہ میں عاجزانہ دست بدعا ہیں کہ مرحوم کو جوار معصومین علیہم السلام میں جگہ عنایت فرمائے ۔ آمین!

مومنین سے گزارش ہے کہ ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور تین مرتبہ سورہ  توحید کی تلاوت فرماکر استاد کی روح پرفتوح کی ایصال فرماِئیں ۔ والسلام التماس دعا

قطعہ تاریخ وفات

مغفور ہوا مولوی منظور حسین آج     فخرالعلماء مولوی منظور حسین آج!

۱۴۲۰ھ                              ۱۴۲۰ھ

وہ پیکر علم و عمل، صدق و وفا تھا                 ہم نہ رہا مولوی منظور حسین آج

                                    ۱۴۲۰ھ 

وہ مست مئے حب علی ہے لب کوثر     سرشار ولا مولوی منظور حسین آج

                                 ۱۴۲۰ھ

ہے گلشن فردوس میں گلزار ارم میں                     اے باد صبا مولوی منظور حسین آج

                                    ۱۴۲۰ھ

اٹھارویں رمضان کو ہاتف نے صدا دی          جنت میں گیا مولوی منظور حسین آج

                                    ۱۴۲۰ھ

تم سا بشر اس دور پرآشوب میں کم ہے            راضی برضا مولوی منظور حسین آج

۱۵    ۱۵۔۲۰۱۴= ۱۹۹۹ء                    ۱۴۲۰ھ

شاداں دہلوی