16 خرداد 1399
  -  
2020 ژوئن 5
  -  
13 شوال 1440
 
مجتبی علی خان
• مجتبی علی خان •
۱۳۶۴/۱۹۴۵ 
۱۴۲۱/۲۰۰۰ء
مجتبی علی خاں نام تھا عابد مجتبی گھر والے کہتے تھے ۔ دنیا والے ادیب الہندی کے نام سے جانتے ہیں ۔ ۱۴/ رمضان ۱۳۶۴ھ/۲۳/اگست ۱۹۴۵ء کو بہار پور ضلع سلطان پور میں پیدا ہوئے ۔ والد ماجد الحاج محمد ضیغم علی خاں رئیس بہارپور تھے ۔ خاندانی سلسلہ ریاست دیوگاؤں ضلع فیض آباد سے تھا ۔ 
گھر پر ابتدائی تعلیم کے بعد مدرسہ ناظمیہ میں داخل ہوئے ۔ اور ذہانت کی وجہ سے جناب مفتی سید احمد علی صاحب طاب ثراہ  پرنسپل کی نظر میں وقار پیدا کرلیا ۔ درجہ قابل کی تکمیل کے بعد ۱۴/ مئی ۱۹۶۴ء کو نجف اشرف کے لئے روانہ ہوگئے ۔ وہاں دس سال تک اساطین فقہ و اصول سے کسب فیض کیا جن میں آیات اللہ العظام سید محسن الحکیم ،سید ابوالقاسم الخوئی اور سید روح اللہ الخمینی شامل تھے ۔ 
آیۃ اللہ یوسف الحکیم کی حفاظت کے لئے انہوں نے کارہائے نمایاں انجام دیئے حکومت کی بلیک لسٹ میں ان کا نام آگیا  ۔ ایک دن موقعہ پر فوج نے کی قیام گاہ کا محاصرہ کرلیا ۔ آپ آیہ مبارکہ کی تلاوت کرتے ہوئے فوجیوں کے درمیان سے نکل گئے اور کسی کی نظر ان پر نہ پڑسکی۔ آیۃ اللہ الحکیم کے خانوادہ کی طرف سے ان کو شام بھیجنے کا انتظام کیا گیا اور وہ بحفاظت حدود عراق سے نکل آئے ۔ 
آیۃ اللہ خمینی نجف میں رہ کر ایران کی شاہی حکومت کے خلاف تحریک چلارہے تھے ۔ ادیب الہندی نے اس تحریک میں بھی غیر معمولی حصہ لیا ۔ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد انہوں نے کئی بار ایران کا سفر کیا ۔ آیۃ اللہ خمینی اپنے اس شاگرد کو بہت عزیز رکھتے تھے ۔ اسی دوران علامہ ادیب الہندی نے''انقلاب اسلامی'' نام کی کتان لکھی ۔ پھر جمہوریہ اسلامی کے دستور اساسی کا اردو میں ترجمہ کرکے چھپوایا ۔ ان دونوں کتابوں سے ہندوستان میں انقلاب ایران کے بارے میں جو غلط فہمیاں  پھیلائی جارہی تھیں ان کو دور کرنے میں مدد ملی ۔ آیۃ اللہ الخمینی کے بعد وہ آیۃ اللہ العظمی سید محمد رضا گلپائیگانی کے وکیل رہے اور اب آیۃ اللہ العظمی سید محمد مہدی شیرازی کے وکیل تھے اور ان کی کئی کتابوں کے اردو ترجمے بھی شائع کرائے تھے نیز دیگر فلاحی کاموں میں ان کی طرف سے حصہ لیا تھا ۔ 
نجف اشرف سے واپس آئے تو فخرالاتقیاء مولانا سید وصی محمد صاحب مرحوم نے  (جو اس وقت وثیقہ کالج کے پرنسپل تھے) آپ کو فیض آباد بلالیا آپ وثیقہ میں شرح لمعہ وغیرہ کا درس بہ احسن وجوہ دیتے تھے ۔ وثیقہ کے قیام کے دوران اپ نے انگریزی سیکھی اور مختلف امتحانات دیتے ہوئے ایل ۔ ایل۔ بی کی ڈگری حاصل کرلی ۔ اب  پی۔ ایچ۔ ڈی کرنے کا ارادہ تھا ۔ 
جب مولانا وصی محمد صاحب قبلہ مدرسۃ الواعظین کے پرنسپل مقرر ہوئے ہوئے تو انہوں نے وائِس پرنسپل کی جگہ کے لئے ادیب الہندی کا نام تجویز کیا ۔ جو منظور ہوگیا اور آپ ۱۹۸۰ میں لکھنؤ آگئے ۔  وہ آٹھ سال تک مدرسۃ الواعظین سے منسلک رہے اور اس عرصہ میں درس کے علاوہ بھی بہت سے ترقیاتی کام کئے ۔ کتب خانہ کے لئے جدید کتابیں حاصل کیں بوسیدہ عمارت کی تعمیر نو کی مہم چلائی اور متعدد کمرے تعمیر کرائے ۔ ماہانہ الواعظ کو مالی کمک کے ذریعہ کافی ترقی دی ۔ دینی معلومات کا ہفتہ وار پروگرام ہوتا تھا جس میں اہل شہر بھی شریک ہوتے تھے ۔ ۱۹۸۸ء میں مدرسۃ الواعظین سے علیحدہ ہوئے ۔ اس کے بعد منصبیہ عربی کالج کے پرنسپل رہے ۔ لیکن علالت کء سبب وہاں قیام کا بہت کم موقع ملا ۔ 

تصانیف

علی میاں ندوی نے سیرت امیرالمومنین پر ایک کتاب ''المرتضی'' لکھی تھی جس میں حقائق کو توڑ مڑوڑ کر پیش کیا گیا ہے ۔ اس کا عالمانہ جواب ادیب الہندی نے الامام کے نام سے شائع کیا ۔ (افسوس کہ علالت کی وجہ سے اس کا دوسرا حصہ شائع نہ ہوسکا)۔ ''حیات افتخار العلماء'' لکھ کر افتخار العلماء کا نام زندہ کیا ۔ امریکہ انگلینڈ اور ہندوستان میں تحقیقی جائزہ لی کر سال بھر کا نقشہ افطار و سحر و اوقات نماز مرتب کیا جو کتابی شکل میں نیز کلینڈر کی شکل میں شائع ہوچکا ہے ۔ 
اقوال چہاردہ معصومین علیہم السلام پر مشتمل ایک کتاب بہ نام ''انوار'' مرتب کی جو مختلف اداروں کی طرف سے شائع ہوتی رہتی ہے ۔ 
ءلمائے ہند کو منظم کرنے کے لئے انہوں نے مجلس علماء و واعظین قائم کی جس کے اجلاس دہلی اور میرٹھ میں ہوئے ۔ 
گردے خراب ہوچکے تھے ۔ بڑے فرزند نے اپنے گردے کی پیشکش کی جسے انہوں نے ایک عرصہ تک ٹالا ۔ آخر ڈاکٹروں کے اصرار سے مجبور ہوکر ۳۱۔دسمبر ۱۹۹۹ء کو گردے کی تبدیلی کا آپریشن ہوا ۔ ڈاکٹروں نے چھ مہینے تک سخت حفاظت اور احتیاط کا مشورہ دیاتھا کہ انفیکشن نہ ہوجائے ۔ لیکن وہ دو ہی مہینے میں لکھنؤ آگئے اور عیادت کرنے والوں میں ایسا گھرے کہ سخت انفیکشن ہوگیا ۔ دوبارہ دہلی گئے ۔ لیکن وقت موعود آچکا تھا ۔ ۴/ محرم الحرام ۱۴۲۱ھ/ ۱۰/اپریل ۲۰۰۰ء کو راہی جنت ہوئے ۔ ۱۱/ اپریل کو میت لکھنؤ ہوتے ہوتے بہار پہونچی ۔ نماز میت مرحوم کے فرزند اکبر مولانا مصطفی علی خاں شمیل نے پڑھائی اور بعد ظہر اسی حسینیہ میں سپرد خاک کئے گئے جس کی انہوں نے ابھی تجدید کی تھی ۔