16 خرداد 1399
  -  
2020 ژوئن 5
  -  
13 شوال 1440
 
کلب عابد، سید اقائے شریعت
• کلب عابد، سید اقائے شریعت •
۱۳۴۱/۱۹۲۳ء
۱۴۰۷/۱۹۸۶ء
آقائے شریعت صفوہ العلماء مولانا سید کلب عابد صاحب سرکار عمدۃ العلماء مولانا سید کلب حسین صاحب کے بڑے صاحبزادے اور دور حاضر میں خاندان اجتہاد کےرکن رکین تھے ۔ آپ یکم جمادی الثانیہ ۱۳۴۱/۱۹ جنوری ۱۹۲۳ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے ۔ سلطان المدارس میں ۱۹۳۰ء میں داخل ہوئے اور ۱۹۴۵ء میں فرسٹ ویژن سے صدرالافاضل کی سند حاصل کی ۔ آپ کے اساتذہ میں مولانا الطاف حیدر صاحب، مولانا عبدالحسین صاحب، مولانا ابن حسن صاحب، مولانا سید محمد صاحب اور مولانا سید حسین صاحب کے نام نمایاں ہیں ۔ 
۱۹۴۶ء میں عراق تشریف لے گئے جہاں آیۃ اللہ سید مہدی شیرازی، آیۃ اللہ سید محسن الحکیم، آیۃ اللہ سید محمود شاہرودی اور دوسرے تلامذہ سے فیض حاصل کیا ۔ ۱۹۴۹ء میں عراق سے لکھنؤ واپس آئے ۔ 

تدریسی مشاغل

دسمبر ۱۹۵۰ء  سے جون تک مدرسہ سلطان المدارس میں نائب مدرس اعلی کی حیثیت سے تدریسی اور انتظامی فرائض انجام دیئے ۔ کچھ عرصہ بعد آپ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں شعبہ تھیولوجی کے ڈین کی حیثیت سے بلائے گئے جہاں نومبر ۱۹۷۴ء  سے جنوری ۱۹۸۳ء تک اس عہدے پر فائز رہے ۔

تلامذہ

تدریس کے اس طویل دور  میں سیکڑوں افراد آپ کے چشمہ علم سے فیض یاب ہوئے ان میں سے چند نام ذیل میں درج کئے جاتے ہیں ۔
مولانا آغا جعفر پاکستان، مولانا رضی جعفر پاکستان، مولانا مرزا محمد عالم، مولانا مرزا محمداطہر، مولانا سید حسن نقوی، مولانا افتخار حسین کشمیر ، مولانا منظور حسن وغیرہم

شادی اور اولاد

۱۹۲۳ء میں حضرت باقرالعلوم طاب ثراہ کی صاحبزادی سے آپ کا عقد ہوا جن سے دو بیٹے اور تین بیٹیاں پیدا ہوئیں ۔ مولاناسیدکلب جواد اب آپ کے جانشین ہیں ۔  
سماجی اور قومی اداروں سے وابستگی: عراق سے واپسی کے بعد ۱۹۶۳ء تک وقتا فوقتا مسجد آصفی میں اپنے والد ماجد عمدۃ العلماء مولانا سید کلب حسین صاحب کی عدم موجودگی میں نماز جمعہ پڑھایا کرتے تھے ۔ عمدہ العلماء کی وفات کے بعد آپ نے یہ منصب مستقل طور سے سنبھال لیا اورآخر  عمر تک یہ فریضہ انجام دیتے رہے ۔ 
آپ آل انڈیا مسلم پرنسل لا بورڈ کے نائب صدر تھے ۔ جس کی صدرات مولانا ابوالحسن علی ندوی کے ہاتھوں میں تھی ۔ سنٹرل حج کمیٹی اور  اردو اکیڈمی کے ممبر رہے ۔ نیز ایک بار آل انڈیا شیعہ کانفرنس کے صدر بھی منتخب ہوئے ۔ مسلم یونیورسٹی کے کورٹ کے ممبر تھے ۔ یہ مختلف النوع مناصب آپ کی ہمہ گیر شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ اور اس سے ان کی مستحکم علمی بنیاد کی نشان دہی ہوتی ہے ۔ جو اس زمانے میں کبریت احمر  حکم رکھتی ہے ۔ 
بقول پروفیسر مولانا شبیہ الحسن نونہروی ''ان میں سنجیدگی اور متانت کے آثار بچپن ہی سےموجود تھے مگر کبھی بھی وہ عبوس و قمطریر نہ تھے ۔ متانت اور حفظ مراتب کے ساتھ ان کی شگفتگی اور کشادہ دستی ان کے اوصاف میں چار چاند لگادیتی تھی ۔ ان میں حقیقتا ایک طرح کی مقناطیسیت تھی ان کے احباب کا حلقہ بہت وسیع جن میں طرح طرح کے لوگ شامل تھے اور سب ہی ان کی نیک نفسی خیر خواہی اور ایثار کے معترف تھے، ان کے ایسا احباب پرور شخص میں کمتر ہی دیکھا ہے ۔ سادگی اور اخلاص کے ساتھ وہ اپنے احباب کی اتنی مدارات کرتے تھے کہ ان کے یہاں جانے والا مبہوت ہوکر رہ جاتا تھا ۔ ان تمام اوصاف کے ساتھ ساتھ واقعات کا ایسا سلسلہ وابستہ ہے کہ اگر  کا ذکر کیا جائے توایک تاریخ بن جائے ۔ جس کا یہاں موقع نہیں ہے احباب پروری اور سادگی کے یہ اوصاف بھی اب کے ذاتی محاسن کے علاوہ ایسی وراثت تھے جو انہیں ان کے پدر عالی مقدار جناب عمدہ العلماء مرحوم طاب ثراہ سے براہ راست پہونچے تھے ۔''
عملی زندگی میں داخل ہونے کے بعد قیادت و خطابت کے نہفتہ اوصاف بھی رفتہ رفتہ ان میں ظہور پذیر ہونے لگے اور پھر تو وہ اس قدر مصروف ہوئے کہ ان کی پوری زندگی معرکے سر کرنے میں گذرگئی ۔ ان کی عملی جدوجہد اور مجاہدانہ عزم و بصیرت کے جوہر اس وقت کھل کر سامنے آئے کہ جب مدرسہ سلطان المدارس کے تحفظ کی تحریک نے برصغیر اور بیرونی ممالک میں بھی ہل چل سی پیدا کردی ۔ اس مدرسہ کا اپنی موجودہ عمارت میں، جس مجموعی قیادت کا کارنامہ ہے ۔اس میں آقائے شریعت طاب ثراہ کی کمک اور سرفروشانہ جدوجہد نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔ 

حادثہ وفات 

آپ ۱۳/دسمبر ۱۹۸۶ءبروز شنبہ ۱۰/ربیع الثانی ۱۴۰۷ھ کو نصیرآباد ضلع رائے بریلی مجلس پڑھنے گئے تھے ۔ وہاں سے الہ آباد کے لئے واپسی ہورہی تھی کہ تقریبا پندرہ کلو میٹر پہلے پھاپھا مئو ضلع الہ آباد کے تقریبا ساڑھے آٹھ بجے رات کو ایک ٹرک نے اس کار کو پیچھے سے کچل دیا جس میں سرکار آقائے شریعت سفر کررہے تھے ۔ لاش رات بھر کس مپرسی کے عالم میں پڑی رہی ۔ لیکن ۱۴/دسمبر کی صبح ہوتے ہوتے جب ریڈیو  اور دیگر ذرائع ابلاغ نے اس خبر کو چاردانگ عالم میں پھیلادیا تو جیسے ایک عالمگیر زلزلہ آگیا۔ راقم الحراف کے بھی آقائے شریعت کے ساتھ مخلصانہ تعلقات تھےاور میں نے یہ خبر تنزانیہ میں ایک تبلیغی سفر پر جاتے ہوئے کار میں سنی تھی ۔ نواب گنج تھانہ سے ایمبولینس کے ذریعہ لاش میڈیکل کالج الہ آباد لائی گئی ۔ سیکڑوں کا مجمع نعرہ لگارہاتھا کہ مولانا کا پوسٹ مارٹم تبھی ہوسکتا ہے جب یہاں ہزاروں پوسٹ مارٹم ہوجائیں جناب سلیم شیروانی،ممبر پارلیمنٹ نے اعلی افسران سے مشورہ کے بعد اعلان کیا کہ اعلی حضرت کی لاش کو کوئی چھو بھی نہیں سکتاہے ۔ ڈاکٹری معائنہ کے بعد میڈیکل کالج کے کمپاؤنڈ میں میت زیارت کے لئے لائی گئی پھر دوبارہ ایمبولینس میں رکھی گئی ۔ تین بجے سہ پہر کے قریب ایمبولینس آہستہ آہستہ لکھنؤکے لئے روانہ ہوئی ۔ ہرقدم پر قافلہ بڑھتا جارہاتھا ۔ ایک جیپ جس پر مسلم مجلس کا جھنڈا لگا تھا سورہ رحمن کی تلاوت کرتی جارہی تھی ۔لکھنؤسے چالیس کلومیٹر پہلے ایک کثیر مجمع استقبال کے لئے کھڑا تھا ۔ وہیں آقائے شریعت کے جسد اطہر کو تابت میں منتقل کرکے ایک کھلی گاڑی میں رکھا گیا ۔ ۹/بجے رات کے قریب اعلان کیا گیا کہ سرکار آقائے شریعت کی نماز جنازہ کل صبح ادا کی جائے گی ۔ پورے لکھنؤ میں کہرام مچا تھا ۔ مجمع رات ہی سے بڑے امامباڑے کی طرف برحا جاتا تھا جہاں غسل و کفن کے بعدتابوت مسجد آصفی کے مرکزی در میں رکھا تھا ، ۹/ بجے صبح جنازے کی صفیں ، امامباڑے کے صحن سے سیڑھیوں تک اور وہاں سے لان تک پہونچیں پھر بھی سب لوگ شرف نماز جنازہ حاصل نہ کرسکے تاج العلماء سید محمد ذکی صاحب نے نماز جنازہ پڑھائی مگر آواز گلوگیر تھی آگے بڑھے تو ٹیلہ والی مسجد کے قریب برادران اہل سنت نماز جنازہ پڑھنے کے لئے تیار کھے تھے ۔ اجازت لے کے تابوت صحن مسجد کے اندر لے گئے ۔ مولانا فضل الرحمن قبلہ امام جمعہ و جماعت اہل سنت کی اقتداء میں نماز جنازہ شروع ہوئی ہزارون شیعہ سوگوار شرکت سے محروم رہ گئے تھے جناب مولانا کی اقتداء میں نماز جنازہ کے لئے کھڑے ہوگئے ۔ یہاں روز نامہ عزائم لکھنؤ کا ایک اقتباس پیش کرنا نامناسب نہ ہوگا ۔ 
''مولانا سید کلب عابد مجتہد کا ماتم جس ہمہ گیر پیمانے پر ہوا اور اب تک ہورہا ہے وہ لکھنؤ کی روایت اور مزاج کے خلاف ہے اور مظاہرہ اتنا غیر متوقع ہے کہ شاید کسی اور کو تو  کیا مولانا مرحوم کو بھی اپنی زندگی میں اس کا اندازہ نہ رہا ہوگا کہ انہوں نے اپنے قومی کردار اور شخصی عمل اور صلح کل ذہن کے اتنے گہرے اور پائیدار اثرات مسلمانوں کی اجتماعیت پر مرتب کردئیے ہیں کہ ان کی وفات نہ صرف شیعہ فرقہ کے لئے ایک حادثہ عظیم بلکہ سنیوں کے لئے بھی ایک ایسا ناقابل بیان صدمہ جانکاہ ثابت ہوگا کہ وہ صدق  دلی ار دل کی گہرائیوں کے ساتھ ان کی نا وقت جدائی پر بیقرار ہواٹھیں گے ۔ 
''جس شہر میں شیعہ سنی منافرت کی وجہ سے شیعہ لیڈروں کے لئے سنی فرقہ کے اندر اور سنی لیڈروں کے لئےشیعہ فرقہ کے اندر بیگانگی، بلکہ بے تعلقی اور بدگمانی کے ایسے جذبات ابھرچکے تھے کہ انہیں ایک دوسرے کا دشمن اور بدخواہ سمجھ لیا گیا تھا ۔ کہ ان سے کسی خیر اور ہمدردی کی توقع ہی اٹھاکر دی گئی تھی ۔ اسی شہر میں سب سے بڑے شیعہ لیڈر اور مذہبی پیشوا مولانا کلب عابد مجتہد کی وفات نے بجلی کی طرح ایک ایسے تاسف اور صدمے کی فضا پیدا کردی کہ سارا سنی فرقہ ان کی طرف عقیدت اور جذباتی کیفیت سے مغلوب ہوکر دوڑ پڑا ۔ وہ ان کی میت کو خوشامد کرکے ٹیلہ شاہ پیر محمد کی اس مسجد میں  ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے لے گئے، جہاں اب تک شیعہ فرقہ کے مقابلہ میں لڑائی اور کش مکش کا محاذ اور میدان تیار کرنے کے لئے سنیوں کے اجتماعات ہواکرتے تھے  ۔ اوریہ کیا بات ہوئی کہ کہ ان کی وفات پر سنیوں کے جذبہ عقیدت کی شدت اس نقطہ عروج تک جا پہونچی کہ ان کی تعزیت اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پوری لگن کے ساتھ شہری جلسہ تعزیت کا اہتمام کرنے پر مجبور ہوگئے''۔
نماز جنازہ کے بعد تابوت چاہیس علموں کے سایے میں امام باڑہ غفران مآب کےلئے روانہ ہوا ۔ درمیان راہ میں جنازے کو آخری دیدار کے لئے گھر کے اندر بھیجا گیا، تھوڑی دیر کے بعدمیت اپنے آخری سفر پر روانہ ہوگئی ۔ آدھا گھنٹے کا راستہ کئی گھنٹوں میں طے ہوا ۔ عمدۃ العلماء مولانا سید کلب حسین صاحب کے پہلو میں ان کے فرزند اکبر کو سلادیا گیا ۔ 
اردو،ہندی اور انگریزی کے اخبارات کئی دن تک آقائے شریعت کے تذکروں سے بھرے رہے ۔ مولانا نہ حکومت کے کسی منصب پر فائز تھے نہ کبھی سیاست میں دخل دیا مگر الہ آباد سے لکھنؤ تک مولانا کی لاش گویا سرکاری اعزاز کے ساتھ آئی ۔ جابجا پولس کی ڈیوٹی تھی اور جب بھی ایمبولینس پولس کے سامنے سے گذرتی تھی رائفل سرنگوں کرکے سلامی پیش کی جاتی تھی ۔ لکھنؤ میں ضلع انتظامیہ اور سرکاری مشینری اس سے زائد سرگرم تھی جتنا سرکاری اعزاز کے ساتھ دفن ہونے والوں کے لئے ہوتا ہے ۔ ماتمی جلوس کے آگے گھوڑے سوار پولس اور ان کے پیچھے اعلی پولس افسران پیدل چل رہے تھے ۔ جلوس کے پیچھے بھی پولس کے جتھے تھے ۔ مسلمانوں کی دکانیں دو روز بند رہیں بلکہ بہت سے غیر مسلم افراد نے بھی دکانیں بند رکھیں ۔ شہر کے اکثر و بیشتر مکانات پر سیاہ جھنڈے تھے ۔ ۱۵/دسمبر کی دوپہر میں تدفین ہوئی اور اسی روز شام کو لکھنؤ کے شہریوں کی طرف سے ( جس میں سنی حضرات پیش پیش تھے)امین الدولہ پارک میں ایک تعزیتی جسہ ہوا جس میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور ہندو، مسلم ، شیعہ، سنی مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے مولانا کو زبردست کراج عقیدت پیش کیا ۔