26 آذر 1397
  -  
2018 دسامبر 17
  -  
9 ربيع الآخر 1439
 
کفایت حسین، رئیس الحفاظ
• کفایت حسین، رئیس الحفاظ •
کفایت حسین، رئیس الحفاظ
۱۶۔۱۳۱۵/۱۸۹۸ 
۱۳۸۸/۱۹۶۸ 
رئیس الحفاظ کفایت حسین صاحب کے ضروری حالات اس ''سوانحی خاکہ'' سے نقل کئے جاتے ہیں جو کتاب کفایۃ الواعظین (جلد اول)میں شائع ہوا تھا ۔ :۔ ''موصوف ۱۸۹۸ء میں شکارپور ضلع بلند شہر، یو ۔ پی۔ میں پیدا ہوئے ۔ 
آباء اجداد کے تعارف کے لئے بقول علامہ موصوف اتنی بات کافی ہے کہ وہ سب کے سب شیعہ تھے ۔ والد ماجد کانام عبداللہ تھا اور پیشہ تجارت تھا، جنہوں نے نیت کی تھی کہ اگر فرزند عطاہوا تو خدمت امام  حسین علیہ السلام کے لئے وقف کردیں گے ۔ چنانچہ بچے کی ولادت کے بعد نام ''کفایت حسین'' رکھا گیا ۔ 
انتدائی تعلیم کے لئے شمس العلماء مولانا نجم الحسن صاحب قبلہ کے ایک شاگرد مولانا محمد عوض صاحب کے قائم کردہ مدرسہ احسن المدارس میں داخل کروایا گیا ۔ جہاں آپ نے حافظ مہدی حسن صاحب سے دس پارے یاد کئے ۔ ان کے بعد حافظ سید غلام حسین صاحب مدرس مقرر ہوئے جن سے آخر تک کلام پاک حفظ کیا ۔ 
۱۹۰۹ء میں جب قرآن مجید مکمل کرلیا تو آپ کو مولانا حافظ فیاض حسین صاحب مدرس مدرسہ منصبیہ کی خدمت میں سنانے کی غرض سے بھیجا گیا جہاں آپ تین ماہ قیام پذیر رہے ۔ ثانوی تعلیم اوائل ۱۹۱۰ء سے ۱۹۱۵ء تک مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ سے حاصل کی ۱۹۱۶ء میں مولوی فاضل پنجاب یونیورسٹی سے، ملا فاضل الہ آباد یونیورسٹی سے، اور مدرسہ ناظمیہ کے فاضل کے امتحانات اول پوزیشن میں پاس کئے ۔ ۱۹۱۷ء میں منشی فاضل پنجاب یونیورسٹی سے پاس کیا۔ ۱۹۱۸ء میں ممتاز الافاضل کا امتحان دیا اور تمام طلباء میں اول آئے، جشن پر مدرسہ کا خاص انعام عبا اور عمامہ حاصل کیا۔ 
۱۹۱۹ء میں مدرسۃالواعظین لکھنؤمیں داخلہ لیا ۔ اوائل ۱۹۲۰ء میں اپنے ہی خاندان میں پہلی شادی ہوئی جن کے بطن سے تین لڑکیاں اور ایک لڑکا موجود ہے ۔ ۱۹۲۰ء مین تبلیغ کے لئے پشاور روانہ کئے گئے ۔ ۱۹۲۲ء میں سرکار نجم العلماء اعلی اللہ مقامہ نے مبلغ ہونے کا سرٹیفکٹ عنایت فرمایا ۔ 
۱۹۲۵ء میں حکوم کی طرف سے سرحدی علاقے کا محکمہ قضا آپ کے سپرد ہوا ۔ چنانچہ موصوف کرم ایجنسی تشریف لے گئے جہاں لوگوں نے پرجوش استقبال کیا۔ وہیں چھ ماہ کی مدت میں  پشتو زبان پر پوری دسترس حاصل کی تاکہ فیصلوں میں غلطی کا امکان نہ رہے ۔ کرم ایجنسی میں آپ نے انجمن شباب الشیعہ و انجمن حسینی کی بنیاد رکھی اور حفظ قرآن کا ایک مدرسہ قائم کیا ۔ 
۱۴/ جولائی ۱۹۲۵ء سیالکوٹ میں حفظ قرآن کے معرکۃ الآراء مناظرہ کو اس طرح جیتا کہ محمد ابراہیم میر سیالکوٹی اور سید محمد شاہ حنفی نے لکھ دیا کہ ''مولوی حافظ کفایت صاحب نہایت اعلی درجہ کے حافظ ہیں اور من حیث الحفظ خواص سے کم نہیں ۔ صاحب موصوف نے عام مجمع میں پانچ پارے سنائے اور ایک گھنٹے سے ایک منٹ بھی زیادہ نہ ہونے دیا ۔ ''
اس کامیابی سے شیعیت کی تبلیغ کے لئے میدان ہموار ہوگیا ۔ 
۱۹۳۲ء میں آپ نے محکمہ قضاسے بحکم حضرت نجم العلماء استعفی دیدیا ۔ 
۱۹۳۳ء میں آپ منجانب حکومت پنجاب و سرحد کے محکمہ اوقاف کے نائب متولی مقرر ہوئے ۔ 
۱۹۳۴ میں آپ کو مبلغ اعلی کا اعزاز اور سرکار نجم الملت کی جانب سے ثالث النیرین کا خطاب ملا ۔ ۱۹۳۹ء میں شیعہ ایجی ٹیشن لکھنؤمیں نمایاں خدمات سر انجام دیں اگر حافظ صاحب پنجاب اور سرحد سے کمک نہ پہونچاتے تو یہ ایجی ٹیشن کامیاب نہ ہوتا ۔ 
۱۹۴۶ء میں نواب رامپور سر رضا علی مرحوم نے تفسیر قرآن مرتب کرنے کے لئے آپ کی خدمات حاصل کیں  ۔ 
۱۹۴۷ء میں ہندوستان چھوڑکر لاہور تشریف لے گئے اور مرتے دم تک وہیں رہے ۔ 
اپریل ۱۹۶۴ء میں آپ پر کراچی میں فالج کا حملہ ہوا ۔ ۱۹۶۶ء میں مرحوم زیارات مقامات مقدسہ اور حج بیت اللہ کے لئے گئے ۔ آقائی محسن الحکیم نے اپنے  طبیب خاص سے آپ کا علاج کروایا ۔ اسی سفر میں بحرین میں مفتی فلسطین سے ملاقات کی ۔ کعبۃ اللہ جاکر مناسک حج بجالائے ۔ کافی صحت مند ہوکر لاہور تشریف لائے ۔ لیکن تقریر کے قابل تادم مرگ نہ ہوسکے ۔ 
۴/ اپریل ۱۹۶۸ء/۵/محرم ۱۳۸۸ھ بروز پنجشنبہ رات کو ۹۔ بجے گنگا رام ہسپتال میں آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا اور ۵/ اپریل بعد دوپہر لاہور کے سب سے قدیم امام باڑے کربلا گامے شاہ میں سپرد خاک ہوئے ۔