16 خرداد 1399
  -  
2020 ژوئن 5
  -  
13 شوال 1440
 
کرار حسین، سید رئیس الواعظین
• کرار حسین، سید رئیس الواعظین •
۱۳۵۶/۱۹۳۷
۱۴۲۰/۲۰۰۰ 
رئیس الواعظین مولانا سید کرار حسین صاحب اپنے وطن میرپور ضلع اعظم گڑھ( یو۔ پی)میں ۱۲/ اگست ۱۹۳۷ء (۴/ جمادی الثانیہ ۱۳۵۶ھ)کو پیدا ہوئے ۔ ان کے والد سید رفیع الحسن صاحب تھے جو رفیق میاں کے نام سے مشہور تھے ۔ رفیق میاں آیۃ اللہ ظفر الملۃ کے پھوپھا تھے ۔ 
وطن میں ابتدائی تعلیم کے بعد کرار صاحب ۱۹۴۷ء میں جوادیہ لائے گئے۔ اور کچھ عرصہ تک ابتدائی عربی بھی سرکار ظفرالملۃ ہی سے پڑھی ۔ فخرالافاضل کرنے کے بعد وہ مدرسۃ الواعظین میں داخل ہوئے ۔ وہاں کی تعلیم مکمل کرکے کئی سال مدرسہ الواعظین کی طرف سے تبلیغی خدمات انجام دئے ۔ پھر اپنے طور پر طول و عرج ہند و پاک  بلکہ بیرون ہین بھی جاتے رہے ۔ 
ان کی زاکری ۱۹۵۵ء میں شروع ہوئی تھی ۔ ان کے تحریری خدمات کا سلسلہ ۱۹۶۲ء میں شروع ہوا جب انہوں نے غلام جیلانی کی کتاب ''بھائی بھائی'' کے جواب میں ''ہابیل قابیل'' لکھی ۔ یہ ان کی طالب علمی کا آخری زمانہ تھا ۔ 
ان کی تحریر و تقریر کی چاشنی کا گر ان کے اس اسلوب میں پنہاں تھا جس کے موجد وہی تھے( اور شاید خاتم بھی)وہ انبیائے سلف کے حالات میں اتنی بے ساختگی سے کنایون اور تلمیحوں کا استعمال کرتے تھے کہ بغیر توجہ دلائے ہوئے پڑھنے اور سننے والوں کا ذہن خودبخود صدر اسلام کے واقعات کی طرف ملتفت ہوجاتا تھا۔ اسی طرح صدر اسلام کے سیاسی جوڑ توڑ کا پرتو عصر حاضر مے نشیب و فراز کو اجاگر کردیتا تھا ۔ 

ذاکری

جب ۱۹۵۵ء میں انہوں نے ذاکری شروع کی تو اس وقت کے مقبول رجحان کو سامنےرکھتے ہوئے مناظرانہ انداز بیان اختیار کیا ۔ایک عرصہ تک اس ہتھیار کے ذریعہ دینی عقائد و اصول کو ذہنوں میں راسخ کردیا ۔ اس کے بعد خطیب اظم اعظم سید غلام عسکری مرحوم کی دوستی کے فیض سے تبلیغی اور اصلاحی انداز بیان کو اپنایا ۔ اور اس ذریعہ سے مرکزی مقامات پر تبلیغی مجالس کا انعقاد کرایا ۔ مساجد میں نماز جماعت کی بنیاد رکھی دینی مکاتب کا قیام عمل میں آیا ۔ سماجی اور معاشرتی پروگراموں میں اصلاح رسوم می بنیاد پڑی ۔ ان کی ذآکری کے مشہور واقعات میں مبارک پور کا تاریخی مناظرہ ۔ احمد آباد( گجرات)کی سالانہ مجالس اور نوادہ چاند پور( اعظم گڑھ)میں شیعیت کی شجرکاری شامل ہیں جنہیں بہ خوف طول نظر انداز کرتا ہوں ۔ 
ان کی تقریر برادران اہل سنت میں بھی مقبول تھی چنانچہ سیرت اور میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلسوں میں اکثر بلائے جاتے تھے ۔ 

تصانیف

زمانہ طالب علمی ہی سے ان کے مضامین الجواد (بنارس)الواعظ (لکھنؤ) اور دیگر قومی اخبارات و رسائل میں شائع ہوتے رہتے تھے ۔  

مستقل تصانیف حسب ذل ہیں

۱۔ ہابیل قابیل ۲۔ نور و نار ۳ ۔ باغی (قضیہ فدک پر مکمل بحث) ۴ ۔ سازش  (واقعہ قرطاس) ۵ ۔ مجرم (بجواب انکشاف حقیقت)۶ ۔ تاریخ الشیعہ ۷ ۔ دلیل عزا  ۸ ۔ ملیکہ العرب (حضرت خدیجہ الکبری کی مفصل سوانح عمری)۹  ۔ ام المومنین عائشہ ۱۰ ۔ ولی اللہ ۱۱ ۔ نماز قرآن و عترت کے آئینہ میں ۱۲ ۔ خطبہ غدیر ۱۳ ۔ مبارک پور میں کئے گئے تحریری  حملوں کے جوابات کے طور پر سات رسالے 
کچھ ایسے مضامین یا پمفلٹ بھی ہوتے تھے جن کو وہ وپنے نام سے شائع کرنے کے بجائے قلمی ناموں (مثلا ابن رفیع)سے منسوب کرتے تھے ۔ 

ادارہ تنظیم المکاتب

خطیب اعظم مولانا غلام عسکری صاحب مرحوم کے حالات میں ادارہ تنظیم المکاتب کی تاسیس کا حال لکھا گیا ۔ یہاں اتنا لکھنا ضروری ہے کہ خطیب اعظم نے مولانا کرار حسین کے ''ساتھ دینے'' کے وعدہ کے بعد ہی تنظیم المکاتب کے قیام کے لئے استخارہ کیا ۔ اور ۱۵۔ جمادی الاول ۱۳۸۸ھ/  ۱۱/ اگست۱۹۶۸ء کو جو پہلی کمیٹی بنی اس میں خطیب اعظم سکریٹری اور کرار حسین جوائنٹ سکریٹری منتخب ہوئے ۔ خطیب اعظم کی وفات کے بعد وہ اس کے سکریٹری ہوئے ۔ مولانا سعادت حسین  صاحب نے جب صدارت چھوڑ دی تو علامہ ذیشان حیدر جوادی (جو نائب صدر تھے)صدر ہوگئے اور مولانا کرار حسین نائب صدر بنادئیے گئے 

اخبار تنظیم المکاتب

جب یہ اخبار(پندرہ روزہ)جاری ہوا تو ایک عرصہ تک مولانا کرار حسین صاحب اس کے ایڈیٹر رہے ۔ 

مجلہ البیان

یہ سہ ماہی رسالہ حجۃ الاسلام سید محمد موسوی (نجفی ہاؤس بمبئی)کی سرپرستی میں جاری ہوا جس کے ایڈیٹر مولانا کرار حسین صاحب تھے ۔ پہلا شمارہ(محرم تا ربیع لاول ۱۴۱۷ھ)محمد آباد گوہنہ (ضلع مئو)سے شائع ہوا ۔ اس کے مضامین قابل قدر ہوتے تھے ۔ مخالفین کی سازشوں کے نتیجوں میں دو سال کے بعد آقای موسوی نے اس کی کمک بند کردی تب اس کی اشاعت پر پابندی نہ رہی ۔ 

محمد آباد گوہنہ کی سکونت

آپ کا وطن میر پور تھا لیکن وہاں سے آمد و رفت میں بہے دشواریاں تھیں اس لئے آپ نے سید واڑہ محمد آباد گوہنہ میں سکونت اختیار کرلی ۔ وہاں قیام میں آپ نے شاہی مسجد میں نماز پنجگانہ اور جمعہ کی امامت شروع کی اور اس طرح مسجد کو ناصبیوں کے قبضہ سے بچایا ۔ سید واڑہ کی دینی فضا میں ترقی کے اثرات قرب و جوار کی بستیوں میں بھی محسوس کئے جانے لگے ۔ اور اصلاح معاشرہ کا کام تیزی سے آگے بڑھنے لگا ۔ 
اگست ۱۹۸۸ء میں رئیس الواعظین کے حلق میں کینسر (سرطان) کے آثار ظاہر ہوئے ۔ بمبئی کے علاج سے وقتی سکون ہوا ۔ لیکن پھر مرض بڑھتا گیا ۔ آخری دنوں میں جامع العلوم جوادیہ( بنارس)میں آکر مقیم ہوئے اور علاج جاری رہا ۔ آخر وہیں پر ۲۰/ ذی الحجہ ۱۴۲۰ھ/ ۲۷/ مارچ ۲۰۰۰ء کو آپ نے رحلت فرمائی ۔ لاش محمد آباد گوہنہ لے جائی گئی ۔ اس آخری سفر کے پہلے جامع العلوم جوادیہ مین نماز جنازہ پڑھی گئی ۔ پھر محمد آباد گوہنہ میں ۲۱/ ذی الحجہ کو مولاناسید شمیم الحسن صاحب نے دوبارہ نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم کو ان کے گھر کے نزدیک صدر مام باڑہ میں سپرد خاک کردیا گیا ۔