16 خرداد 1399
  -  
2020 ژوئن 5
  -  
13 شوال 1440
 
فرمان علی، حافظ، سید
• فرمان علی، حافظ، سید •
                                                  حدود         ۱۲۲۳ھ/۱۸۷۶ء
  ۱۳۳۴ھ/۱۹۱۶ء
مولانا حکیم حافظ سید فرمان علی صاحب ان چند ہستیوں میں ہیں جن پر سرزمین بہار کو بجا طور پر ناز ہے ۔ آپ کے والد ماجد کا نام سید لعل محمد ابن سید اصغر علی تھا ۔ جو موضع چندن پٹی دربھنگہ کے رہنے والے تھے ۔ مولانا مرحوم کی وفات ۷/مئی ۱۹۱۶ء کو ہوئی جب ان کی عمر چالیس ۴۰ سال تھی اس اعتبار سے ان کی پیدائش ۱۸۷۶ء کے حدود میں قرار پاتی ہے ۔ 
مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ کی تاسیس جمادی الاولی ۱۳۰۸ھ۔ ۲۰/فروری ۱۸۹۰ء کو ہوئی تھی ۔ اور مولانافرمان علی کے حقیقی چچازاد بھائی اور برادر نسبتی مولانا فخر الدین اس کے سب سے پہلے ممتاز الافاضل ہوئے تھے ۔ وہ اپنے کلاس میں تنہا تھے ان کے بعد والے کلاس میں مولانا سید فرمان علی، مولانا سید محمد ہارون، مولانا سید سبط حسن جائسی اور مولانا سید محمد داؤد زنگی پوری تھے جو ۱۳۱۳ء میں فارغ ہوئے ۔ جن کے فقہ و اصول کا پرچہ امتحان اس وقت کے مرجع اعلی سید کاظم یزدی صاحب (عروۃ الوثقی)نے ترتیب دیا تھا اور ان حضرات نے عربی میں ایسے جوابات لکھے کہ آیۃ اللہ یزدی نے بہت زیادہ تحسین و آفرین کی، قیام لکھنؤ میں آپ نے علم طب بھی حاصل کیا اور اس میں درجہ کمال تک پہونچ گئے افسوس یہ ہے کہ اس فن میں آپ کے استاد کا نام نہیں معلوم ہوسکا ۔
۹/ربیع الاول ۱۳۲۳ھ مطابق ۱۵/مئی ۱۹۰۵ء کو پٹنہ سٹی میں جب مدرسہ سلیمانیہ کی بنیاد رکھی گئی تر اس کے بانی نواب سید الطاف حسین رضوی صاحب کے التماس پر مولانا سید فرمان علی صاحب نے اس کی پرنسپل کا عہدہ قبول کرلیا ۔ اور انہوں نے  مدرسہ کو اس درجہ ترقی دی کہ جب مدرسہ کا چوتھا سالانہ جلسہ ہوا جس میں انگریز کمشز مہمان خصوصی تھے تو صاحب بہادر نے آپ کی بے حد تعریف کی اور کہا کہ میں نے ایسی عمدہ تعلیم گاہ پہلی دفعہ دیکھی ہے ۔جو بغیر سرکاری امداد کے چل رہی ہے ۔ آپ کے تلامذہ میں پروفیسر سید اعجاز حسین جعفری   پی ۔ ایچ ۔ ڈی۔( لندن)صدر شعبہ عربی، ڈھاکا یونیورسٹی اور مولوی سید محمد صاحب ایڈوکیٹ، چھندواڑہ مظفرپور کے نام نامی نمایاں ہیں ۔ 

سادگی و  خاکساری  

مولانا حافط فرمان علی صاحب نہایت سادہ زندگی بسر کرتے تھے ۔ غریب پروری، خاکساری اور اقربا نوازی کے ساتھ ساتھ محنت کی عظمت کے دل سے قائل تھے ۔ مظفرپور کی پرکٹیس کے زمانہ میں بھی اپنا کام خود کرتے تھے ۔ غریب رشتہ داروں اور طالب علموں کے ساتھ بے تکلف زمین پر بیٹھ جاتے اور ان کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے تھے ۔ اس وقت مظفرپور اور دربھنگہ کے درمیان ریل نہیں تھی اور مولانا ستر کلو میٹر کا وہ سفر سائیکل سے کرتے تھے ۔ یہ اس علاقہ کی سب سے پہلی سائیکل تھی ۔ مومنین اور اہل بستی کی سفارش اہل ثروت سے کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے تھے ۔ اس کے باوجود، خودداری اور عزت نفس کو کبھی ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل واقعہ سے معلوم ہوگا ۔ 
ایک بار مولانا کی اکلوٹی بیٹی کی بیماری کی خبر آئی ۔ آپ نے دربھنگہ جانے کے لئے چھٹی کی درخواست دی جسے سکریٹری مدرسہ نے منظور نہیں کیا ۔ آپ نے درخواست کی پشت پر اپنا استعفی لکھ کر بھیج دیا اور گھر چلے آئے ۔ یہ خبر مذہبی اور سماجی حلقوں میں پھیلی تو پورے عظیم آباد میں تہلکہ مچ گیا ۔ لوگ ان کو راضی کرنے کے لئے چندن پٹی تک آئے لیکن آپ نے چھوڑی ہوئی جگہ پر واپس جانا گوارہ نہیں کیا ۔ 

مظفر پور

اس کے بعد آپ نے مظفرپور میں طبابت شروع کی ۔ حکیم حاذق کی حیثیت سے ان کی شہرت پھیل گئی اور انگریز ڈاکٹروں کی پریکٹس ماند پڑگئی ۔ 

حفظ قرآن

مظفر پور میں مدرسہ جامع العلوم چھندواڑہ کے مدرس اعلی، مولوی رحمۃ اللہ آپ کے پڑوسی تھے ۔ دونوں میں بے تکلفی تھی ایک بار مولانا رحمہ اللہ نے مزاق میں کہا کہ شیعوں میں حافظ نہیں ہوتے آپ نے اسی دن سے قرآن حفظ کرنا شروع کردیا اور پانچ ماہ کے مختصر عرصہ میں قرآن حفط کرلیا ۔ اس کارنامہ کو دیکھنے کے لئے دور دور سے قاری  اور حافظ جمع ہوئے اور سب نے آپ کی خدا داد یادداشت کا لوہا مان لیا ۔ ایک خاص بات یہ تھی کہ جس طر ح آپ سورہ ''الحمد'' سے ''سورہ ناس'' تک سنا سکتے تھے اسی طرح ''سورہ ناس'' سے سورہ  ''الحمد'' تک سنا سکتے تھے ۔ مولانا کو اپنے کمال علم کے ساتھ حفظ کے مقابلوں اور مناظروں میں دور دور تک جانا پڑتا تھا ۔ اس سلسلے میں غالبا وہ پہلی مرتبہ پنجاب میں اس وقت گئے جب قادیانیوں سے قادر آباد گجرات میں مناظرہ تھا ۔   

شادیاں اور اولاد

آپ کی شادی آپ کے چچا سید ظہیر الدین ابن سید اصغر علی کی صاحبزادی کنیز سیدہ سے ہوئی تھی ۔ جو مولانا  سید فخر الدین کی بہن تھیں ۔ کئی اولادوں میں صرف ایک بیٹی بی بی ہاجرہ زندہ رہیں ۔ اولاد نرینہ کی تمنا میں مولانا مرحوم نے محلہ کمرہ مظفرپور میں ایک بیوہ  مومنہ سے بھی شادی کی تھی مگر ان سے بھی صرف ایک بیٹی پیدا ہوئی جو کمسنی میں انتقال کرگئی ۔ مولانا مرحوم کے انتقال کے بعد بی بی ہاجرہ کی شادی مولانا سید صغیر حسن صاحب  (ملک پوری)سے ہوئی جو مدرسہ سلیمانیہ کے مدرس تھے ۔ 

تصنیفات و تالیفات

مدرسہ سلیمانیہ کے نصاب کی ترتیب کے سلسلہ میں آپ نے اردو دینیات کی چار کتابیں لکھیں جن میں سے تین طبع ہوئیں اور آج تک پریس والے اس کی مانگ کے مدنظر اسے چھاپتے رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ''کتاب النحو'' اور "کتاب الصرف'' لکھی تھی جو بہت دنوں تک مقبول رہی ۔ 
اہل حدیث کے نامور عالم مولوی ثناء اللہ امرتسری ایڈیٹر اہل حدیث( امرتسر)سے آیہ ولایت کی تفسیرپر آپ سے تحریری مناظرہ ہوتا رہا جو اہل حدیث اور اصلاح  میں چھپتا رہا ۔ ادارہاصلاح نے ان مضامین کامجموعہ ''الولی'' کے نام سے شائع کیا ۔ لیکن جس چیز نے مولانا حافط سید فرمان علی کو زندہ جاوید بنادیا وہ ان کا ترجمہ قرآن مجید ہے ۔ حیرت ہوتی ہے کہ بہار کے ایک دیہات کے رہنے والے والے میں ایسی شستگی سلاست و معنی خیزی کہاں سے آگئی اور ایسی کوثر میں دھلی ہوئی زبان ان کو کہاں سے مل گئی۔ کہ عزیز لکھنوی حیسے استاد فن نے یہ لکھا کہ''میرا عقیدہ ہے کہ گر یہ کتاب اللہ اردو زبان میں نازل ہوتی تو آپ کے ترجمہ میں اور اس میں ایک لفظ کا فرق نہیں ہوتا۔ '' قرآن مجید کے حواشی میں آپ نے فضائل اہل بیت علیہم السلام کی آیتوں کی تشریح از اول تا آخر اہل سنت کی معتبر کتابوں سے کی ہے ۔ اور اس چیز نے آپ کے ترجمہ قرآن کو مولانا مقبول احمد صاحب مرحوم کے ترجمہ اور حواشی سے ممتاز کردیا ہے ۔ 
کراچی کے حاجی حسن علی، پی ابراہیم مرحوم بانی و متولی پیر محمد ابراہیم ٹرسٹ نے اس ترجمہ کو چھپوانا چاہا تو مولانا نجم الحسن کراروی مرحوم( پشاوری)سے فرمائش کی کہ وہ ترجمہ و حواشی پر نظر ثانی کریں ۔ مولانا نے مقدمہ میں یہ لکھا ہے کہ انہوں نے ان تبدیلیوں کو مولانا محمد مصطفی جوہر کو دکھا لیا ہے ۔ 
راقم الحروف نے جب استاذ محترم مولانا محمد مصطفی جوہر سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مولانا نجم الحسن صاحب نے چند سطریں ادھر ادھر سے پڑھ کر سنائیں تھیں ۔ میں نے بالاستیعاب ان کے ترمیمات کو نہیں دیکھا ہے ۔ ان مطبوعہ کتابوں کے علاوہ ''فدک'' اور سوانح عمری جناب ''فاطمہ زہرا '' لکھی تھی جو ضائع ہوگئی ۔ 

وفات 

۱۹۱۶ء میں مظفرپور میں ہیضہ کی وبا آئی جس میں آٹھ دن دن مبتلا رہ کر مولانا فرمان علی کے ۴/رجب ۱۳۳۴ھ ۷/مئی ۱۹۱۶ء کو رحلت فرمائی ۔ اور کمپنی باغ مظفر پور کربلا میں دفن ہوئے  ۔ 
مولانا محمد مصطفی جوہر نے مجھے صفی مرحوم کی کہی ہوئی تاریخ وفات سنائی تھی  
فکر نے کوہ کنی کی تویہ نکلی تاریخ               ایک ''الحمد''کو ہے حافظ قرآں محتاج
۳۱            ۱۹۱۶= ۳۱۔۱۹۴۷ 
دوسرے مصرع کے اعداد سے ''کوہ''کے اعداد ( ۳۱)کا تخرجہ کیا گیا ہے ۔ 
شیخ محمد جان عروج فیض آبادی کا قطعہ تاریخ  مولانا کی سیرت و تاریخ پر روشنی ڈالتا ہے ۔ اس لئے نقل کیا جاتا ہے 
وادریغا،  اٹھ گیا دنیا سے وہ یکتائے عصر                         جس اب ممکن نہیں اس دور میں ثانی کہیں
علم طب میں بےبدل، دست شفاء حکمت مآب     تھے یہاں کی سرزمیں پر عیسی گردوں نشیں
واعظ  و  ذاکر   محدث،  مادح           آل  عبا          کامل  علم  کلام   و   عالم   دین   مبیں
متقی،  محتاط،  زاہد،   عابد   و پرہیزگار                          روز روشن تھانشان سجدہ بالائے جبین    
تھے معاون جان و دل سے شیعیان ہند کے         رکن اعلی تھے زار کان گروہ مومنین  
سید  عالی  نسب  والا  حسب  ذی  افتخار                یعنی فرمان علی، از آل فخر المرسلیں
سخت اسہال وبا میں یک بیک ایسے پڑے                       روز اول ہی ہلاکت کا ہوا خود کو یقیں 
آٹھ دن نامی معالج کا ہوا کامل علاج                                                 پر، مرض بڑھتا گیا، جوں جوں داوائیں جتنی کیں 
ڈاکٹر،بیداور اطبائے زماں کیا کرسکیں                             جب کہ فرمان قضا میں بس مسیحا کا نہیں  
چوتھی کو ماہ رجب کی روز یکشنبہ کی صبح                                      دار فانی سے ہوئے دار بقاء رحلت گزیں 
سال ہجری، عیسوی کی ہی میں تھا عروج        ناگہاں آئی صدائے خازن  خلد بریں 
جابسے جنت میں فرمان علی حق پسند                          پائی جب آواز طبتم فادخلوا ہا خالدین 
۱۳۳۴ھ                                     ۱۹۱۶ء