16 خرداد 1399
  -  
2020 ژوئن 5
  -  
13 شوال 1440
 
غلام عسکری، سید
• غلام عسکری، سید •
۷۔ ۱۳۴۶ھ/۱۹۲۸ء
۱۴۰۵ھ/۱۹۸۵ء
مولانا سید غلام عسکری صاحب مرحوم سید محمد نقی صاحب بجنور ضلع لکھنؤ کے صاحبزادے تھے آپ ۱۹۲۸ء میں زہر رائے بریلی میں پیداہوئے ۔ 
ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد والدین کو تمنا ہوئی کہ بچہ سے کدمت دین لی جائے اس بنا پر جامعہ ناظمیہ لکھنؤمیں داخلہ ہوا جہاں سے ممتاز الافاضل کی سند حاصل کی، ساتھ ہی ساتھ منشی، مولوی، عالم، فاضل، فاضل طب، فاضل فقہ وغیرہ کے اسناد سے بھی مزین ہوئے ۔ 
ناظمیہ سے فارغ ہونے کے بعد مدرسہ الواعظین میں داخلہ لیا اور علامہ سید عدیل اختر صاحب طب ثراہ سے کماحقہ فیض حاصل کرتے ہوئے خود کو خدمت ملت جعفریہ کے لئےمکمل طور سے آمادہ کرلیا ۔ مدرسۃ الواعظین سے ۱۸ سال تک وابستہ رہے ۔ اور بحیثیت واعظ و بحیثیت آنریری سکریٹری اس  تبلیغی ادارے کی کامیاب خدمتیں انجام دین ۔ ادارہ مدرسۃ الواعظین سے انہیں گہرا لگاؤ تھامولانا چند سال سے ادارہ کو سالانہ ایک ہزار روپیہ مرحمت فرمارہے تھے ۔ ان کا ارادہ تھا کہ ان پر جوادارہ کا صرف ہوا تھا اسے بالا اقساط ادا کریں طرز بیان میں تاثیر اتنی تھی کہ بہت جلد مقبول ترین ذاکر بن گئے ۔ تبلیغی سلسلے میں قریہ، قریہ جانے سے انہیں اندازہ ہوا کہ قوم میں علم کی بہت کمی ہے لہذا ۱۹۶۸ء میں تنظیم امکاتب کی بنیاد ڈالی جس نے ۱۷ سال میں قابل ذکر ترقی کی ۔ یہ ان کا وہ ٹھوس کارنامہ ہء جس کا قوم کو تہہ دل سے اعتراف ہے ۔ اصلاح قوم کے جذبے کے تحت تنظیم المکاتب کے قیام کے علاوہ دینی لٹریچر کی اشاعت پر بھی توجہ دی اور ادارہ کی جانب سے ایک اخبار کا اجراء ہوااور متعدد کتب و رسائل منظر عام پر آئے ۔ 

قیام تنظیم المکاتب

۱۹۶۸ کا وہ مبارک سال تھا جب مولانا نے ادارہ تنظیم المکاتب کی بنیاد رکھدی ۔ قوم کو اس جانب متوجہ کیا اور مرحوم کے انتقال کے وقت پورے ملک میں ۵۱۵ مکتب عالم وجود میں آچکے تھے اور دینی تعلیم دینے میں سرگرم تھے ۔ مدرسین مکاتب کی تربیت کا انتظام کیا افسران معائنہ و برائے امتحانات انسپکٹروں کی تقرری کی ۔ ایسا نظام تعلیم مرتب کیا کہ آسانی سے ہرقریہ کے لوگ اپنے یہاں دینی مکتب قائم کرسکیں ۔ نیز دفتر کے لئے عمارت خریدی ۔ بیرون ہند سے بھی ادارہ تنظیم المکاتب کی شاخیں قائم کیں ۔ ہندی، اردو ا،نگریزی، بنگالی اور گجراتی زبانوں میں دینیات کا مکمل نصاب تیار کرتے ہوئے شائع کیا تاکہ ہر بولنے والے کو اس کی مادری زبان میں دین کی واقفیت ہوتی رہے ۔ ۱۹۸۳ء میں جامعہ امامیہ تنظیم المکاتب قائم کیا ۔ تاکہ اس ادارہ کے تحت دین کی اعلی سے اعلی تعلیم ہوسکے ۔ 

تصانیف

میں کیوں شیعہ ہوا، تنویر الشہادتین،دس مجلسیں، پیاس

وفات

شب جمعہ۱۸شعبان۱۴۰۵ھ مطابق ۹،مئی ۱۹۸۵ء کو مینڈر، ضلع پونچھ( کشمیر)میں اچانک حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوا ۔ تبلیغی مجلس کے سلسلہ میں تشریف لے گئے تھے ۔ جہاں سے لاش وطن لائی گئی ۔ ۱۱مئی ۱۹۸۵ء کو مقبرہ سادات قصبہ بجنور میں والد بزرگوار کا پہلو آخری آرام گاہ قرار پایا ۔