16 خرداد 1399
  -  
2020 ژوئن 5
  -  
13 شوال 1440
 
جعفر حسین ،مفتی
• جعفر حسین ،مفتی •

۱۳۳۴ھ ۱۹۱۴ع
۱۴۰۳ھ۱۹۸۳ع
گوجران والا﴿پنجاب ﴾ کے حکیم چراغ دین ابن حکیم غلام حیدر کے تین فرزندوں میں سے علامہ مفتی جعفر حسین دوسرے فرزند تھے۔ جو وطن مالوف میں ۱۳۳۴ھ /۱۹۱۴ء میں پیدا ہوئے۔ پانچ سال کی عمر میں آپ نے اپنے بڑے چچا حکیم شہاب الدین کے سامنے زانوئے تلمذتہہ کیا اور عربی ادب اور صرف و نحوسیکھنے کے لئے دیگر مقامی علماء سے کسب فیض کیا۔   چودہ  برس کی عمر تک قطبی، ہدیہ سعیدیہ، سبعہ معلقہ اورمقامات حریری، کے علاوہ وہ اخلاق محسنی،  حلیۃ المتقین، طب اکبر وغیرہ پر عبور حاصل کرلیا۔ 
چودہ سال کی عمر میں ۱۹۲۸ء میں آپ اولی دینی تعلیم کے لئے لکھنئو تشریف لے گئے اور مدرسہ ناظمیہ میں داخلہ لیا۔ آٹھ سال میں آپ نے ممتازالافاضل کی سند حاصل کیاور اسی دوران لکھنؤیونیورسٹی سے فاضل ادب اور فاضل حدیث کے اسناد بھی حاصل کئے۔ آپ کے اساتذہ میں سرکار نجم الملۃ ، مولانا ظہور حسن صاحب، مولانا سبط حسن جونپوری، مفتی سید احمدعلی صاحب، اور سید العلماء علی نقی صاحب اسمائے گرامی قابل ذکر ہیں۔
فارغ التحصیل ہونے کے بعد ایک سال تک مدرسہ ناظمیہ میں آپ درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔ اور جب اسباب فراہم ہوگئے تو ۱۹۳۶ء میں نجف اشرف کے لئے روانہ ہوئے جہاں آپ نے پانچ سال تک قیام کرکے اساطین حوزہ نجف سے فیض اٹھایا ۔ نجف میں آپ کے اساتذہ میں سید ابولحسن اصفہانی ، آقائے شیخ عبدالحسین رشتی ، آقائے سید جواد تبریزی وغیرہ ہم کے نام قابل ذکر ہیں ۔
۱۹۴۰ء میں آپ نجف اشرف سے مرجعت فرماکر سرکار نجم الملۃ  کی خدمت میں حاضر ہوگئے ۔۔۔۔۔۔جنہوں نے آپ کو نوگانواں سادات﴿ضلع مرادباد﴾کے مدرسہ باب العلم میں بحیثیت مدرس بھیج دیا ۔۔۔۔۔۔نوگانواں میں دوسال کے قیام کے بعدآپ اپنے آبائی گوجر انوالہ تشریف لے گئے ۔

مدرسہ جعفریہ کا قیام

آپ کی کوششوں سے گوجرانوالہ کے ماسٹر اللہ دتہ مرحوم نے اپنا مکان مدرسہ کے لئے دیدیا ۔ دوسرے مدرسین کے علاوہ مفتی صاحب خود بھی طلباء کو پڑھاتے تھے ۔ کچھ عرصہ بعد وسائل کی کمی  کے سبب مدرسہ کو بند کردینا پڑا  ۔ یہ تقریبا۱۹۴۳ء کی بات ہے جب تحریک پاکستان زور پکڑرہی تھی ۔ آپ نے بھی اس تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ ۱۹۴۷ء میں قیام پاکستان کے بعد آپ نے نہج البلاغہ کا اودر ترجمہ شروع کیا ۔ 
قیام پاکستان کے فورا بعد حکومت پاکستان کو دستورسازی کا مسئلہ درپیش تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کچھ شیعوں نے یہ اعلان کیا کہ"کہ ہم شیعیان حیدر کرار کے پاکستان میں وہی حقوق ہیں جو برادران اہل سنت کے اور دیگر مسلمانوں سے الگ ہمارے کوئی حقوق نہیں ہیں ۔" دوسرے ہمدردان قوم کے علاوہ علامہ مفتی جعفر حسین صاحب اور علامہ حافظ کفایت حسین صاحب نے اس اعلان پر انتہائی سخت ردعمل کا اظہار کیا ۔ ان نازک حالات میں چند ہی دنوں بعد لاہور میں "ادارہ تحفظ حقوق شیعہ،پاکستان'' کا قیام عمل میں آیا ۔ جس کے صدر مفتی جعفرحسین صاحب ۔ سینیر نائب صدر حافظ کفایت حسین صاحب اور جونیئر نائب صدرخطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی منتخب ہوئے ۔ اور پروفیسر محمد صادق قریشی سکریٹری جنرل ہوئے ۔ مفتی صحب نے شہر، شہر،قریہ،قریہ جاکر تقریریں کیں اور ملت کو بتایا کہ ہمارے کچھ جداگانہ حقوق بھی ہیں جن کو کوئی نیلام نہیں کرسکتا ۔
دستورساز کمیٹی میں حکومت نے مفتی جعفر حسین صاحب کوایک رکن نامزد کیا ۔ اس کمیٹی نے ایک قرارداد مقاصد مقرر کی جو ملک کے آئین کی اصل و اساس قرار پائی ۔ مفتی جعفر حسین اس کمیٹی کے روح رواں تھے ۔
۱۹۴۹ءنواب زادہ لیاقت علی خان نے مفتی صحب کو تعلیمات اسلامیہ بورڈ کا رکن نامزد کیا ۔ اس بورڈ کا کام مختلف امور میں حکومت کو اسلامی نقطہ نظر سے آگاہ کرنا اور آئین سازی میں ہاتھ بٹانا تھا اس بورڈ کے چیرمین ڈاکٹر حمیداللہ تھے ۔ اور دوسرے اراکین میں مفتی محمد شفیع کراچی ۔ سید سلیمان ندوی اور مولانا ظفر احمد انصاری تھے ۔

بائیس ۲۲نکات

قائد اعظم کی رحلت کے بعداسلام دشمنوں نے یہ پروپیگنڈہ شروع کیا کہ پاکستان  میں نظام اسلام نافذ نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ اسلام کے تہتر فرقہ میں سےہر فرقہ اپنے ہی نظریات کواصل اسلام سمجھتا ہے تو کون سا اسلام نافذکیا جائے گا ۔ اس چیلنج کے جواب میں ملک بھر کے مختلف مکاتب فکر کے اکتیس مقتدر علماء نے اکتیس سے چوبیس جنوری ۱۹۵۱ءتک کراچی میں اجلاس کرکے بائیس نکاتی دستاویز مرتب کی جس کی روشنی میں نافذ ہونے والا نظام تمام فرقوں سے سند قبولیت حاصل کرسکتا تھا ۔ مفتی جعفر حسین اور کفایت حسین اس اجلاس کے روح رواں تھے ۔ نکتہ نمبر بائیس میں کہاگیا ہے ۔ ''دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہوگی جو کتاب و سنت کے خلاف ہو'' ۔ اس نکتے کے نیچے ایک تشریحی نوٹ مفتی جعفر حسین کی خصوصی کاوشوں کےنتیجہ میں لکھا گیا ''۔
نوٹ:''قرآن و سنت کے الفاظ جہاں جہاں آئے ہیں ان کا کسی فرقہ پر اطلاق کے وقت وہی مفہوم لیا جائے گا جو اس فرقہ کے نزدیک صحیح اور مسلم ہو ''۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں اس تشریحی نوٹ کو اس دستویز سے حذف کردیا گیا ۔

 قادیانیت کے خلاف اقدام

 ۱۸مئی ۱۸۵۲ء کو کراچی میں مرزائی وزیر خارجہ ۔ چودھری ظفر اللہ خاں نے ایک تقریر کی جس سے مسلمانوں پاکستان کے جذبات مجروح ہوئے ۔ اس کے ردعمل میں ایک کانفرنس طلب کی گئی جس کے داعیان میں مفتی صاحب بھی تھے اور آپ نے کانفرنس میں ایک بصیرت افروز تقریر بھی کی اس کے علاوہ''تحریک تحفظ ختم نبوت'' میں حافظ کفایت حسین صاحب کے دوش بدوش بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور ہر محاذ پر جاکر ختم نبوت سے متعلق شیعہ نقطہ نظر واضح کیا ۔
اسلامی مشاورتی کونسل اور اسلامی نظریاتی کونسل
فیلڈر مار شل صدر جنرل محمد ایوب خان نے اپنے عہد اقتدار میں اسلامی امور سے متعلق اسلامی مشاورتی کونسل قائم کی جس میں علامہ مفتی جعفرحسین صاحب کو شیعہ نمائندہ کی حیثیت سے نامزد کیا۔ ایوب خان اور یحیی خان کے دور میں آپ نے اس کونسل میں مذہب و ملت کی نمائندگی کی ۔ ۱۹۷۱ء میں پاکستان پیپلز پارٹی نے آپ کی جگہ پر خطیب آل محمد سید اظہر حسن زیدی کو نامزد کیا ۔ جب جنرل ضیاء الحق کی مار شل لا حکومت نے اسلامی کونسل کا نام بدل کر اسلامی نظریاتی کونسل رکھا اور اس کی از سرنو تشکیل کی تو پھر مفتی جعفر حسین صاحب کو بطور شیعہ نمائندہ نامزد کیا گیا ۔

 قومی قیادت

 ۱۹۷۹ء میں جنرل ضیاء الحق نے نفاذ اسلام کے چند جزوی اقدامات کا اعلان کیا جن میں ایک زکات کی وصولی کا بھی تھا ۔ مگر اس اعلان میں فقہ جعفریہ کو بالکل نظرانداز کردیا گیا تھا اور صدرمملکت نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان اقدامات کی سفارش اسلامی نظریاتی کونسل نے متفقہ طور پر کی ہے ۔ مفتی جعفر حسین صاحب نے ایک پریس کانفرنس بلاکر حکومت کو الٹی میٹم دیدیا کہ اگر فقہ جعفریہ کے پیروکاروں کے لئے باقاعدہ طور پر فقہ جعفریہ کے نفاذ کا اعلان نہ کیا گیا تو وہ ۳۰/اپریل ۱۹۷۹ء کو اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت سے احتجاجا مستعفی ہوجائیں گے ۔ (جب فوجی حکمرانوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو مفتی جعفر حسین صاحب نے ۳۰/اپریل کو استعفا دے دیا)مفتی صاحب کے مذکورہ بالا پریس کانفرنس کے بعد کچھ مخلص رہبران ملت نے یہ طے کیا کہ ایک آل پاکستان شیعہ کنونشن منعقد کیا جائے جس میں ایک متحدہ قومی پلیٹ فارم کی تشکیل کرکے اپنے حقوق کے حصول کے لئے منظم تحریک چلائی جائے ۔چنانچہ ۱۲۔ ۱۳۔ اپریل ۱۹۷۹ء کو بھکر میں کنونشن منعقد ہوا جو تاریخ پاکستان  میں شیعیان حیدر کرار کا سب سے بڑا اجتماع تھا ۔ اس اجلاس میں پہلی بار شیعہ عوام نے براہ راست متفقہ طور پر اپنی مرکزی قیادت کا انتخاب کیا ۔ ایک اندازہ کے مطابق شرکاء کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ تھی ۔ اس کنوکنونشن کا اہتمام مجلس نظام فقہ جعفریہ نے کیا تھا ۔ امامیہ اسٹوڈنس آرگنائزشن(آئی ۔ ایس ۔ او)اور شیعہ اسکاؤٹس نے انتظام میں معاونت کی ۔
اس کنونشن مین علامہ مفتی جعفر حسین صاحب قبلہ کو شیعیان پاکستان کا متفقہ طور پر قائد تسلیم کیا گیا ۔ اور پوری انصاف فضہ ایک ہی قائد ایک ہی رہبر مفتی جعفر مفتی جعفر کے نعرے سے گونج اٹھی تھی ۔ بقول بی ۔ بی ۔ سی ۔ آیۃ اللہ خمینی کے بعد مفتی جعفر حسین ایشیا کے دوسرے بڑے روحانی پیشوا تھے کہ جنہیں عوام کی اتنی بڑی تعداد نے ووٹ دیا ۔
مفتی صاحب نے اپنے خطاب میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ ۳۰/اپریل سے پہلے حکومت شیعیان پاکستان کے مذہبی مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کرے ۔ عدم قبولیت کی صورت میں ۳۰/ اپریل کے بعد شیعہ اپنے مطالبات کے حق میں ملک گیر تحریک شروع کردیں گے ۔
مزید یہ کہ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کہلائے گی ۔ انجمن کا صدر دفتر اسلام آباد میں ہوگا۔ صوبہ،ڈویژن، ضلع، تحصیل اور موضع کی سطح پر بھی تحریک کے دفتر قائم کئے جائیں گے ۔

 اسلام آباد کنونشن

 جنرل ضیاء الحق نے اس کے جواب میں کراچی میں یہ بیان جاری کردیا کہ ایک ملک میں دو قانون نافذ نہیں کئے جاسکتے۔ پاکستانی عوام کی اکثریت حنفی المذہب ہے اس لئے یہاں فقہ حنفی ہی نافذ ہوگی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ حکومت نے کنونشن کو ممنوع قرار دیدیا اسلام آباد کی چاروں طرف سے ناکہ بندی کردی گئی پھر بھی اسلام آباد کے لال کواٹرس کے قریب ہاکی گراؤنڈ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں اتنے جاں فروش جمع ہوگئے تھے کہ بڑے بڑوں کا زہرہ آب ہونے لحا ۔ ۲/ جولائی کو صدرمملکت کی دعوت پر مفتی صاحب نے ان سے رات کے وقت دو گھنٹے ملاقات بھی کی جس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ۴ اور ۵ جولائی کو حکومت نے بہت سے پینترے بدلے لیکن شیعوں کا جوش و جذبہ کم نہ ہوااور ۵ جولائی کی شام کو عوام نے صدارتی سکریٹریٹ کا گھیراؤ کرلیا اور دھرنا دے کر وہیں بیٹھ گئے ۔ ۶جولائی کو قائد ملت جعفریہ علامہ مفتی جعفر حسین صاحب صدر مملکت کی دعوت پر ایک پانچ رکنی وفد کے ساتھ سکریٹریٹ میں تشریف لے گئے اور کم و بیش بارہ گھنٹے تک صدر مملکت سے مذاکرات ہوتے رہے ۔ معاہدہ اسلام آباد میں صدرنے یہ یقین دلایا کہ کسی ایک فرقہ کی فقہ دوسرے فرقہ پر مسلط نہیں کی جائے گی ۔ شام کو قائد ملت نے باہر آکر مجمع کے سامنے یہ اعلان کیا کہ صدر مملکت نے ہمارا مطالبہ منظور کرلیا ہے اور یہ یقین دلایا ہے کہ نہ صرف عشرو زکوۃ بلکہ ہر نئے قانون میں فقہ جعفریہ کو ملحوظ رکھا جائے گا۔ اس طرح قائد ملت کی ہدایت کے مطابق دوردراز سے آئے ہوئے عوام اپنے گھروں کو واپس جانے لگے ۔

 تصانیف

 (۱)ترجمہ نہج البلاغہ (اردو)،   ترجمہ صحیفہ کاملہ(اردو)، سیرت امیرلمومنین(جلد اول)، (۴)دیوان امیرالمومنین کا منظوم ترجمہ(اردو)
جامعہ جعفریہ کا قیام
۱۹۷۹ء میں گوجرانوالہ میں آپ نے ایک عظیم الشان درسگاہ، جامعہ جعفریہ کا سنگ بنیاد رکھا ۔ تقیبا ایک تہائی عمارت تعمیر ہوچکی ہے جس پر اٹھارہ لاکھ روپیہ کی لاگت آئی ہے ۔ آپ خود بھی اس میں درس دیتے تھے یہاں تک کہ مرض الموت میں بھی اگر ذرا بھی طاقت محسوس کرتے تو لڑکھڑاتےمدرسہ پہونچ جاتے ۔ ایک طرف خونی قے کرتے دوسری طرف شرح لمعہ کا درس پڑھاتے ۔

 بیماری اور وفات

 بھکر کنوشن کے بعد شب و روز کے طوفانی دوروں نے آپ کی صحت کو برباد کردیا ۔۲۹/دسمبر ۱۹۸۲ء کو لاہور ڈاکٹروں نے تشخیص کیا کہ آپ کینسر میں مبتلا ہیں ۔
۲۵/ جولائی ۱۹۸۳ء کو آپ کو لندن لے جایا گیا جہاں یہ رپورٹ ملی کہ کینسر کا اثر پھیپڑوں سے بڑھ کر دماغ تک پہونچ چکا ہے ۔ اور جو علاج پاکستان میں ہورہا ہے وہی مناسب ہے ۔ ۳/اگست کو لندن سے واپس ہوئے اور ۲۹/اگست کو طلوع آفتاب کے وقت آپ نے اس دارفانی سے رحلت فرمائی ۔ جامعہ امامیہ کربلا گامےشاہ میں غسل و کفن کے بعد جنازہ آخری دیدار کے لئے گوجرانوالہ روانہ ہوا چونکہ آپ کربلا گامے شاہ میں دفن کرنے کی وصیت فرماچکے تھے اس لئے میت کو دوبارہ لاہور واپس لایا گیا جہاں دوسری نماز جنازہ ہوئی اور مغرب سے چند لمحہ قبل آپ کو سپرد خاک کردیا گیا ۔