17 آذر 1398
  -  
2019 دسامبر 8
  -  
11 ربيع الآخر 1440
 
خبریں نمبر: 255 تاریخ: 2015/04/12 مناظر:  

علماء کے علمی خدمات کے موضوع پر علمی نشست

شہر لکھئنو میں علماء کے علمی خدمات کے موضوع پر علمی نشست

 

 

مجلس علماء ہند کی جانب سے منعقد ہونے والے ہفتہ وار دینی کلاسز میں علماء کے علمی خدمات کے موضوع پر لکھنئو میں ایک علمی نشست کا اہتمام کیا گیا ۔

اس نشست میں مجمع محققین ہند کے سکریٹری حجۃ الاسلام والمسلمین جناب محمد باقر رضا صاحب اور حجۃ الاسلام والمسلمین جناب اصطفی رضا صاحب قبلہ استاد حوزۃ العلمیہ غفرانمآب نے علماء کے علمی خدمات پر روشنی ڈالی ۔

حجۃ الاسلام والمسلمین جناب محمد باقر رضا صاحب نے علماء کرام کی علمی خدمات کو بیان کرتے ہوئے خاص طور پر جنگ آزادی کے پہلے شہید مولوی محمد باقر مجتہد کے حالات زندگی بیان کیئے ۔

آپ نے قومی معاملات اور حالات حاضرہ سے واقفیت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس بات کو بیان کیا کہ قومی معاملات و حالات حاضرہ سے با خبر رہنے کے لئے ایک اخبار کی ضرورت کو سب سے پہلے ایک عالم دین نے محسوس کیا اور نہ صرف محسوس کیا بلکہ مولانا محمد باقر مجتہد نے اس سلسلہ میں عملی قدم بھی اٹھایا اور صحافت کی دنیا کو پہلا اخبار دے کر سرافراز کیا ۔

حجۃ الاسلام والمسلمین جناب محمد باقر رضا صاحب نے  مولانا محمد باقر مجتہد مرحوم کے علاوہ اور بھی دیگر علماء کے علمی خدمات سے سامعین کو روشناس کرایا جن میں آیۃ اللہ العظمی خوئی رحمۃ اللہ علیہ وآیت اللہ العظمی بھجت رضوان اللہ تعالی علیہ و آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای حفظہ اللہ شامل ہیں ۔

مجمع محققین ہند کے سکریٹری حجۃ الاسلام والمسلمین جناب محمد باقر رضا صاحب نے علماء کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اگر آج کا نوجوان ہم سے یہ سوال کر لے کہ علماء نے ہمارے لئے کیا خدمات انجام دیں ؟تو شاید بہت سے لوگ اس بات سے واقف نہ ہوں کہ اگر ان علماء کی جانفشانیاں اور قربانیاں نہ ہوتیں تو آج صحیح دین ہم تک پہنچنا بہت مشکل ہو جاتا ۔علماء کی خدمات سے آشنائی کے لئے ان کی تاریخ کا مطالعہ جہاں ہمیں انکی خدمات سے واقف کرائے گا وہیں ہمارے کردار کے نکھار میں بھی مددگار ثابت ہوگا اور ہم ان کے کردار کی روشنی میں اپنی کردار سازی کر سکتے ہیں ۔

نشست میں درس کے طور پر دوسری تقریر حجۃ الاسلام والمسلمین جناب اصطفی رضا صاحب قبلہ استاد حوزۃ العلمیہ غفرانمآب نے کی اور حاضرین کے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔ 

ماخذ: