4 اسفند 1398
  -  
2020 فوريه 23
  -  
27 جمادى الآخرة 1440
 
خبریں نمبر: 244 تاریخ: 2015/02/02 مناظر:  

نئی دہلی میں رسول رحمت(ص) کانفرنس کا کامیاب انعقاد

نئی دپلی میں رسول رحمت(ص)کانفرنس میں علماء و دانشوران قوم کی جانب سے توہین رسالت کی مذمت

نئی دہلی میں اہل بیت اسمبلی کے زیر اہتمام رسول رحمت (ص) کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرون ملک کے مقررین نے شرکت کی، مقررین کا کہنا تھا کہ یورپ میں عیسائیت اپنی مذہبی روح کھو چکی ہے، یہی وجہ ہے کہ مغربی ممالک میں عیسیٰ ابن مریم کے سلسلہ میں توہین آمیز فلمیں بھی بنتی ہیں اور مذہبی عبادت گاہیں بھی  بک جاتی ہیں اور اس کے باوجود یوروپین معاشرہ میں کوئی رد عمل نظر نہیں آتا لیکن اس کے برخلاف اسلامی معاشرہ میں ایسا نہیں یہاں فوری طور پر ہر گستاخانہ عمل کے سامنے کھل کر رد عمل دیکھنے کو ملتا ہے اورجب تک حمیت اسلامی اور حرارت ایمانی باقی ہے تب تک توہین رسالت (ص) کرنے والے کامیاب نہیں ہوسکتے، اہل بیت اسمبلی کے زیر اہتمام رسول رحمت (ص) کانفرنس میں اہلبیت اسمبلی کے صدر مولانا محسن تقوی نے حاضرین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کانفرنسز سے معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے، کانفرنس میں مشہور خطیب اور بزرگ عالم مولانا نعیم عباس نے کہا کہ اپنے معاشرتی اور مذہبی اقدار کی حفاظت ہمیں خود کرنا ہے اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا کیونکہ اب ہمارے پاس قرآن جیسا اسلحہ ہے جبکہ ابابیلوں کا لشکر بھی ہمیں اتحاد ہی کی دعوت دیتا ہے کہ جو ایک جگہ سے اجتماعی طور پر اایک ساتھ حرکت میں آئیں اور ایک ساتھ مل کر ابرہہ کے لشکر کا بھوسا بنا ڈالا، المصطفی یونیورسٹی ایران کے نمائندے جناب ڈاکٹر غلام رضا مہدوی نے کہا کہ آخر کیوں مغربی افراد توہین رسالت اور اہانت رسول (ص) کی کوشش کرتے رہتے ہیں اسکی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ مغربی مفکرین اپنی تہذیب کو بکھرتا ہوا محسوس کر رہے ہیں اور وہ مادی گرداب میں الجھے ہوئے ہیں اب ان کے پاس دور راستے ہیں یا تو وہ اپنی تہذیب کو چھوڑ دیں یا اسلامی تہذیب کو منتشر کر دیں اسی لیے وہ اسلامی تہذیب پر حملہ کرتے رہتے ہیں۔
نئی دہلی فتح پوری شاہی مسجد کے امام مولانا مفتی مکرم احمد نے جذباتی تقریر کرتے ہوئے مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دی اور کہا کہ فرانس میں جو لوگ اس طرح کی حرکتیں کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مغربی مفکرین سیرت رسول (ص) پر لکھ کر آئینہ دکھا چکے ہیں اور آج جو اہانت رسول (ص) کی کوششیں کر رہے ہیں انہیں خوف ہے اسلامی تحریکوں  سے کیونکہ ایجینسیاں یہ سروے پیش کر چکی ہیں کہ2021ء تک فرانس میں اسلام سب سے بڑا مذہب ہوگا، لہٰذا مسلمانوں کو انکی سازشوں کو سمجھنا چاہیے، مفتی مکرم نے امریکی صدر اوبامہ کے دورہ ہند پر تبصرہ کر تے ہوئے کہا کہ جو ہمارے ملک کو نصیحت کر کے گئے ہیں انہیں وہ پیغام اسرائیل کو بھی دینا چاہیے وہ تو ان سے اور بھی قریب ہیں، مشہور اسلامی اسکالر ڈاکٹر حفیظ الرحمن نے کہا کہ پیارے نبی (ص) کی شان اقدس کی اہانت کرنے والے کو ابھی یہ معلوم نہیں کہ بعثت پیغمبر (ص) کے بعد سے جس جس نے بھی اہانت کی کوشش کی خود اللہ تعالیٰ نے اسکا جواب دیا کفار و مشرکین نے جب ابتر کہا تو قرآن میں سورۂ کوثر آگیا، ابو لہب نے اہانت کی کوشش کی تو قرآن نے جواب دیا ابو لہب تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں، دشمنان رسالت و اسلام کو سوچنا چاہیے کہ جسکا تحفظ خود پروردگار کرتا ہو تو انکی کیا حیثیت ہے۔
مولانا سید حسن مدنی نے کہا کہ اسلام دشمن طاقتیں موقع موقع سے اس طرح کی حرکتیں کرتی رہی ہیں مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ سیرت رسول (ص) کو اپنے کردار میں اتارنے کی کوشش کریں اور دنیا کو بتائیں کہ کردار رسولؐ کو اپنا نے والے کیسے ہوتے ہیں، کانفرنس میں مجمع جہانی اہلبیت کے جنزل سکریٹری آیۃ اللہ حسن اختری کا خصوصی پیغام مولانا اختر رضوی نے پڑھا۔ مولانا علی حیدر غازی نے مقالہ پیش کیا، اہلبیت اسمبلی کے سکریٹری مولانا محمد رضا غروی نے تمام علماء کرام اور شرکاء سے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اہلبیت اسمبلی کی کوشش ہے کہ پیغام اسلام اور سیرت رسولؐ کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جائے، کانفرنس کا آغاز مولانا حیدر مہدی کریمی نے تلاوت کلام ربانی سے کیا جبکہ نظامت مولانا عازم زیدی سیتھلی اور نعت پاک مولانا عرفان علی مرزا اور ڈاکٹر ماجد دیوبندی نے پیش کی، اس کانفرنس میں کثیر تعداد میں علماء و دانشوروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر دو خصوصی شماروں رسول رحمت و صادق آل محمد کا اجراء عمل میں آیا۔ اہم شرکاء میں مولانا رفیق قاسمی، مولانا محمد، مولانا رئیس احمد جارچوی، مولانا ممتاز علی، مولانا عابد عباس وغیرہ نے شرکت کی۔

ماخذ: