2 مهر 1400
  -  
2021 September 24
  -  
16 صفر 1442
 
خبریں نمبر: 149 تاریخ: 2014/04/22 مناظر: 1  

سرزمین قم پرعظیم الشان بین الاقوامی سمینار

حوزہ علمیہ قم کے علمی مرکز مدرسہ حجتیہ میں ردود تحفہ اثنا عشریہ کی رونمائی اور عظیم الشان سمینار

۲۰ جمادی الثانیہ ولادت بی بی دو عالم حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی مناسبت اور مرکز احیاء آثار بر صغیر کی تاسیس کی سالگرہ کے موقع پر مدرسہ حجتیہ (حوزہ علمیہ قم) کے شہید مطہری ہال میں علامہ دلدارعلی نقوی لکھنوی غفرانمآب متوفی ۱۲۵۳ھ و و علامہ مرزا کامل دہلوی شہید رابع متوفی ۱۲۵۳ٰھ  کی وفات وشہادت کے دو سو سال مکمل ہونے کی یاد گار کے طور پر ایک عظیم الشان سمینار منعقد ہوا۔ اس سمینار میں ہندو پاک اور ایران کے معروف اہل قلم و ودانشورحضرات نے شرکت کی سمینار کے مدوعیین و مندوبین میں آیت اللہ سید محمد رضا جلالی،حجۃ الاسلام والمسلمین جناب رضا مختاری، حجۃ الاسلام والمسلمین جناب محامی، حجۃ الاسلام والمسلمین جناب سلمان نقوی، حجۃ الاسلام والمسلمین جناب احتشام عباس زیدی، حجۃ الاسلام والمسلمین جناب علی عباد صاحب، حجۃ الاسلام والمسلمین جناب دیودانی صاحب اور ایران کے ممتاز شاعرجناب محسن رضوانی صاحب کےنام نمایاں ہیں ۔

سمینار کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا، اس کے بعد حجۃ الاسلام والمسلمین جناب صالحی نے مرکز احیاء آثار بر صغیر کی چار سالہ کارکردگی کا اجمالی خاکہ پیش کرتے ہوئے اس مرکز کے اہم کاموں پر روشنی ڈالی جن میں میراث بر صغیر نامی خصوصی شمارہ کا اجراء،شیعان و علماء کشمیر سے متعلق دائرۃ المعارف، سوانح قاسمی، موسوعۃ وکیل آل محمد، کحل الجواہر،۵ ہزار نایاب کتابوں کے فوٹوز،تفسیر لوامع التنزیل و سواطع التاویل کی ۱۰ جلدوں کی ٹائپنگ،وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔

اس رپورٹ کے بعد پاکستان سے آئے حجۃ الاسلام والمسلمین جناب دائودانی نے اپنی پر مغز تقریر کے ذریعہ میراث  علماء برصغیرکو زندہ رکھنے کی کوششوں کو سراہتے ہوئے بر صغیر کے علماء کی شایان شان خدمات کو بیان کیا اور سمینار میں معروف خطیب و دانشور علامہ طالب جوہری کے نہ پہنچ سکنے کی معذرت کرتے ہوئے ان کی جانب سے چند دعائیہ کلمات بیان کرتے ہوئے مرکز کے مدیر جناب طاہر اعوان صاحب کا شکریہ ادا کیا ۔ دیودانی صاحب کے بعد حجۃ الاسلام والمسلمین جناب مختاری صاحب نےبزرگ علماء کی علمی میراث کی حفاظت اور انکی خدمات کے زندہ رکھنے کے سلسلہ میں مختصر و مفید تقریر کی اور اسکے بعد مدیر مرکز مآب جناب حجۃ الاسلام والمسلمین طاہر اعوان صاحب نے مختصر طور پر مرکز کے اہداف و مقاصد اور اسکی کارکردگی کو بیان کیا اوراپنے مقصد کی راہ میں در پیش مشکلات کو بیان کرتے ہوئے مشکلات کے باوجود آگے مزید بہتر انداز میں کام کرنے کے عزم کا اعلان کرکیا ۔

تقریبا ۳ گھنٹہ مختلف شعراء و مقررین نے اپنے اپنے انداز میں بر صغیر کے بزرگ علماء کے احیاء کے اس نمایاں کام کو سراہتے ہوئے سامعین کو پر مغز بیانات سے مستفید کیا پروگرام کے حسن ختام کے طور پر آیت اللہ جلالی نے اپنے مخصوص انداز میں بزرگوں کے آثار کے احیاء اور مرکز کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے مرکز مآب کے سلسلہ میں اپنے خیالات کا اظہار کیااور اس کے بعد تحفہ اثنا عشری کے جوابات پر مشتمل کتابوں کے ۶۰ جلدی مجموعہ کی رونمائی کی گئی اور اسی کے ساتھ مرکز کا تعاون کرنے والے فعال اراکین کی خدمت میں سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا ۔

بر صغیر کے آثار اور ان کے متعلق معلومات کو محققین و اہل ذوق کی سہولت کے لئے سایٹ کا افتتاح بھی اس سمینار کا ایک حصہ تھا، صاحبان ذوق تحقیق Maablib.com  پر جا کر اس مرکز کی کارکردگی اور بر صغیر کے علماء کی خدمات کو ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔   

ماخذ: