2 مهر 1400
  -  
2021 September 24
  -  
16 صفر 1442
 
خبریں نمبر: 146 تاریخ: 2014/04/19 مناظر: 1  

سید العلماء حیات اور کارنامے

ہندوستان میں اتر پردیش کے پایتخت لکھنئو میں سید العلماء حیات اور کارنے کے عنوان کے تحت سمینار منعقد

عالمی شہرت یافتہ برّ صغیر کے 20ویں صدی کے ممتا زعالم دین، دانشور اور محقق آیت ﷲ سید علی نقی نقوی کی رحلت کی 2۵ ویں برسی کے موقع پر 75 سے زائد برس پرانی تنظیم یادگار حسینی کی جانب سے شہر لکھنومیں سہ روزہ عالیشان سمینار منعقد ہوا جس میں ملک و بیرون ملک سے آئے علماء و دانشوروں نے سید العلماء کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا-بیرون ملک سے جو اشخاص موجود تھے ان میں سر فہرست آیت اﷲ شیخ عباس کاشف الغطاء ہیں جو عراق میں نجف اشرف کے ممتازعالم دین محمد حسین کاشف الغطاء کے علمی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں-

 شیخ عباس کاشف الغطاء نے اپنی تقریر میں سید العلماء کے عربی زبان میں ادبی اور مذہبی خدمات پر روشنی ڈالی، پاکستان سے خاص طور پر تشریف لائے مولانا محمد داودانی اور مولانا ابو طالب طباطبائی نے سید العلماء کی علمی کاوشوں کو بیان کیا سمینار کے افتتاحی اجلاس میں پروفیسر انیس اشفاق، سوامی اگنیویش، مولانا رضا حیدر، مولانا اطھر عباس، پروفیسر کمال الدین اکبر، پروفیسر اختر الواسع، جناب شاہد مہدی، مولانا کلب جواد اور مولانا کلب صادق نےتقاریر کیں.

افتتاحی اجلاس میں نہ صرف سید العلماء کی علمی اور ادبی کاوشوں پر گفتگو ہوئی بلکہ یہ بھی طے پایا کہ سید العلماء کے کام اور ان کے مشن کوپوری دنیا میں روشناس کرانے کی ضرورت ہے کیوں کہ سید العلماء کا مشن عین اسلامی مشن ہے۔ اجمیر شریف سے خاص طور پر سیمینار میں تشریف لائے پروفیسر لیاقت موئینی نے شیخ کاشف الغطاء اور ڈاکٹر علی محمد نقوی کو دستار پیش کی۔ اس موقع پر آیت اﷲ کاشف الغطاء کی جانب سے سید العلماء کی شخصیت پر عربی میں ایک کتاب کا اجراء بھی کیا گیا۔

سمینار کے تیسرے اورآخری روز سمینار کرا رہی تنظیم یادگار حسینی نے سید العلماء کے مقبرہ کو از سر نو تعمیر کرانے، سید العلماء کی تفسیر قران کو جلد شایع کرانے اور ان کی تمام کتابوں کو انٹرنیٹ پر ڈالنےکےعزم کا اظہار کیایادگار حسینی کے سکریٹری عزیز حیدر نے بتایا کہ پاکستان سے آئے مولانا محمد رضا داؤدانی اور پروفیسر انیس اشفاق نے جو ۱۱تجاویز پیش کئے ہیں ان پر جلد از جلد عمل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔سمینار میں ڈاکٹر علی محمد نقوی صاحب نے بھی بصیرت افروز تقریر کی۔ ڈاکٹر نقوی نے اپنی تقریر میں کہا کہ آج کا نوجوان صحیح اور غلط میں تمیز کرنے لگا ہے اور اب وہ سید العلماء کی جانب سے دکھائی گئی روشنی کو بہتر طور پر سمجھنے کی صلاحیت پیدا کر چکا ہے انھوں نے کہا کہ بطور پروفیسر ان کا کام ہی سیمینار کرنا ہے لیکن اتنا عظیم الشان اور اتنے نظم و ضبط کے ساتھ سمینار کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ ڈاکٹر نقوی نے کہا کہ اس سمینار سے لکھنؤ میں مذہبی سمینار کرنے کا رجحان پیدا ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دوسرے علماء پر بھی سمینار ہوں۔اس سے قبل ملک کی مختلف یونیورسٹیوں سے آئے دانشوروں اور علماء نے سید العلماء کی حیات اور کارناموں پر روشنی ڈالی۔سمینار کے آخری دن چار ادوارمیں مقالات پیش کئے گئے۔ ۔پہلے دور کی صدارت پروفیسر اطہر رضا بلگرامی، ڈاکٹر حسنین اختر اور مولانا تصدیق حسین نے کی۔ اس دور میں جناب رضا عباس، ڈاکٹر تقی علی عابدی، مولانا طییب رضا نقوی، ڈاکٹر عبد الماجد خاں اور ڈاکٹر عراق رضا زیدی نے اپنے مقالات پڑھے۔

ڈاکٹر عبد الماجد خاں نے سید العلماء کی کتابوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سید العلماء نے قرآنی تعلیم اور اسلام کے مختلف پہلوؤں کو فروغ دینے کے لئے جو کام ۲۰ ویں صدی میں کیا وہ کسی دوسرے شخص نے نہیں کیا۔ پروفیسر عراق رضا زیدی نے سید العلماء کی تفسیر قرآن کے حوالے سے اپنا مقالہ پڑھا۔

اس مقالے میں انھوں نے بتایا کہ سید العلماء نے عربی زبان سے اردو میں ترجمہ کرنے میں جتنی احتیاط سے کام لیا ہے وہ اپنے آپ میں مثال ہے۔انھوں نے سید العلماء کی کتاب شہید انسانیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ کربلا پر اس سے بہترین کتاب کوئی دوسری دیکھنے کو نہیں ملی۔اس موقع پر عراق سے آئے آیت اﷲعباس کاشف الغطا نے کہا کہ وہ تنظیم یادگار حسینی کے ممنون ہیں کہ جس نے بر صغیر کے ایک بزرگ عالم آیت اﷲ سید علی نقی کی زندگی اور کارناموں پرعظیم الشان سیمینار کرایا۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی عراق کے شہر نجف اشرف میں سید العلماء پر ایک عظیم الشان سیمینار منعقد کرائیں گے۔ انھوں نے اس بات پرتاکید کی کہ سید العلماء بھلے ہی ہندوستان کے ہیں لیکن عراق کے لوگ اور خاص کر نجف اشرف کے لوگ انھیں اپنا ہی سمجھتے ہیں۔ ایسا اس لئے کہ ہےکہ ان کا کام عربی میں اس پایہ کا ہے کہ عرب دانشور بھی ان کے علم اور زبان و ادب پر عبور پر داد تحسین دیتے نہیں تھکتے ہیں سمینار کےدوسرے دور کی صدارت ڈاکٹر علی محمد نقوی اور پروفیسر کمال الدین اکبر نے کی۔

مولانا اصغر اعجاز، جناب راقم لکھنوی، جناب غلام محمد خاں، مولانا عابد عباس، مولانا ناظم علی خیرآبادی اور پروفیسر قریشی نے اپنے مقالات پڑھے۔تیسرے دور کی صدارت پاکستان سے مولانا محمد رضا داؤدانی اور کناڈا سے آئے مولانا ذکی باقری نے کی۔ اس دور میں مولانا علی حیدر غازی، مولانا صابر عمرانی، ڈاکٹر تقی رضا برقئی اور پروفیسر انیس اشفاق نے اپنے مقالات پڑھے۔ چوتھے دور میں جناب منظر مہدی فیض آبادی، سینئر صحافی سید جعفر حسین، مولانا سعیدالحسن صاحب اور پروفیسرفضل امام نے اپنے مقالات پڑھے۔اس موقع پر کناڈا سے آئے مولانا ذکی باقری نے کہا کہ سید العلماء حسین دار تھے، حسین باور تھے اور حسین فہم تھے اور انھوں نے کربلا کے پیغام کو اپنی تحریر اور تقریر دونوں سے صرف پیش ہی نہیں کیا بلکہ اس پر چل کر دکھایا۔مولانا محمد رضا داؤدانی نے کہا کہ سید العلماء کی جتنی کتابیں ہیں، بھلے ہی عربی، فارسی اور اردو میں، ان سب کو سوشل میڈیا پر دینا چاہئے تاکہ تمام دنیا ان سے فائدہ اٹھا سکے۔یہ سمینار ۸ اپریل کو لکھنو میں بحسن خوبی اختتام پذیر ہوا ۔

ماخذ: