14 مرداد 1399
  -  
2020 اوت 4
  -  
15 ذو الحجة 1441
 
خبریں نمبر: 132 تاریخ: 2014/03/22 مناظر: 1  

نوری نستعلیق فونٹ کے موجد جناب احمد مرزا جمیل صاحب

نوری نستعلیق فونٹ کے موجد جناب احمد مرزا جمیل صاحب نے دار فانی کو وداع کہا

’’نوری نستعلیق‘‘ کی تخلیق سے اُردو کمپیوٹرائزیشن میں ناممکن کو ممکن بنادینے والی شخصیت کا انتقال یقینا اردو داں طبقہ کے لئے ایک بڑا سانحہ ہے ۔

اُردو زبان کے سب سے خوبصورت نستعلیق کمپیوٹرائزڈ فونٹ ’’نوری نستعلیق‘‘ کی تخلیق، احمد مرزا جمیل صاحب کا ذاتی کارنامہ تو تھا ہی، ساتھ ہی یہ اُردو زبان پر اُن کا اتنا بڑا احسان ہے جسے ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہئے۔ آج اگر ہم اخبارات، رسائل اور ویب سائٹس وغیرہ پر نہایت صاف ستھرے اور پُرکشش نستعلیق رسم الخط میں، کمپیوٹر کے ذریعے لکھی گئی اُردو پڑھ رہے ہیں، تو یہ جناب احمد مرزا جمیل کے اسی احسان کا فیضان ہے۔

 جہان اردو (علیم احمد)جناب احمدمرزا جمیل کو انکی  ایجاد ’’نوری نستعلیق‘‘ کے سبب ہمیشہ یاد رکھے گا کیونکہ اِس ایجاد نے اردو کی ترقی میں پَر لگادیئے ہیں۔ اردو رسم الخط کے بارے میں عام تاثر تھا کہ یہ جدید برقیاتی دور کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ لیکن نوری نستعلیق کی ایجاد نے اردو کی اِس خامی کو دور کردیا۔ آج ہم جو بے شمار اردو اخبارات، جرائد و رسائل اور کتابیں بازار میں دیکھتے ہیں، یہ اِسی ایجاد کی وجہ سے ممکن ہوئیں جس سے اِس کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ دراصل اِس ایجاد نے ہی اردو کی کمپیوٹری کتابت کا آغازکیا۔

احمدمرزا جمیل 21 فروری 1921ء کے روز دہلی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم سینٹ جوزف ہائی اسکول بمبئی سے حاصل کی اور جے جے اسکول آف آرٹس سے ڈپلوما کیا۔ آپ نے اعلیٰ تعلیمی ایوارڈ کے علاوہ بہت سے تعلیمی ایوارڈ حاصل کئے جن میں ’’آل انڈیا آرٹ انڈسٹری‘‘ کا پہلا انعام بھی شامل ہے۔ کلکتہ میں پی سی بروا (فلم ڈائرکٹر) کے ساتھ مووی فلمز میں آرٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کیا جس کے بعد انہوں نے فلم پبلسٹی کا ادارہ ’’مووی آرٹس‘‘ کے نام سے قائم کیا۔1950ء میں پاکستان آئے اور ایک سال نیشنل ایڈورٹائزرز کراچی میں آرٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے فرائض انجام دیئے۔ احمد مرزا جمیل بہت اچھے خطاط اور آرٹسٹ تھے۔ انہوں نے اردو کے ہر حرف کو بہت خوشخط انداز میں لکھ کر کمپیوٹر کی یادداشت میں محفوظ کرنے کے قابل بنایا؛ اور 1980ء میں برطانوی کمپنی ’’الیکٹرونک ٹائپ سیٹنگ‘‘ کو اردو ٹائپ کاری کے تجربے کیلئے آمادہ کیا؛ جس کے بعد سے آج تک اردو کی ٹائپ کاری یعنی بذریعہ کمپیوٹر تحریر جاری ہے۔ http://urdu.globalscience.net

ماخذ: