16 خرداد 1399
  -  
2020 ژوئن 5
  -  
13 شوال 1440
 
خبریں نمبر: 130 تاریخ: 2014/03/16 مناظر: 1  

ایام فاطمیہ کی مناسبت سے مجمع محققین میں تعزیتی جل

ایام فاطمیہ کی مناسبت سے آج مجمع محققین کے مرکزی دفتر میں تعزیتی جلسہ کا انعقاد ہوا

جلسہ میں مجمع کے سکریٹری حجۃ الاسلام والسملیمن جناب محمد باقر رضا صاحب نے حاضرین جلسہ کی خدمت میں تعزیتی کلمات ادا کرتے ہو ئےبی بی زہرا سلام اللہ علیہا سے منسوب ان ایام پر روشنی ڈالی اور بی بی کہ ہمہ گیر شخصیت کے مختلف پہلوئوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے  بیان کیا : ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم بی بی کی مختصر لیکن افادیت کے لحاظ سے کائنات پر محیط زندگی کے سلسلہ میں سنجیدگی سے غور کریں اور آپکی سیرت کے ان عملی پہلوئوں کو معاشرہ کے سامنے پیش کر سکیں جن کی روشنی میں سماج و معاشرہ ترقی و کامرانی کی طرف آگے بڑھ سکے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علہیا سے متعلق ہماری تحقیقی کاوشوں میں اس بات کی طرف توجہ ضروری ہے کہ حضرت فاطمہ علیھا السلام نے اپنے بچپن سے لیکر شہادت تک کی مختصر زندگی کس طرح گزاری؟ آپکی اپنے بابا کے گھر اور اس کے بعد شوہر کے گھر کی مختصر زندگی میں وہ کون سے گوہر ہمیں دستیاب ہو سکتے ہیں  جنہیں ہم اپنے سماج کی خواتین کے سامنے ان زریں اصولوں کے طور پر پیش کر سکتے ہیں جن پر عمل ہر گھر کو جنت میں بدل سکتا ہے ۔جناب محمدباقر رضا صاحب نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عظیم عالمی انقلاب کی کامیابی میں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے کردار کو واضح کرنے کے سلسلہ میں زور دیتے ہوئے اس بات کو بیان کیا کہ تمام دانشور اور اہل قلم حضرات کی ذمہ داری ہے کہ جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کو اس رخ سے پیش کریں کہ پرچم توحید کو بلند کرنے اور بلند رکھنے میں آپ اور آپکے فرزندوں نے کیا قربانیاں دیں؟  جناب محمد باقر صاحب نے سخت اور دشوار حالا ت میں جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کو موجودہ سختیوں اور دشواریوں میں نمونہ عمل بنانے پر زور دیتے ہوئےکہا کہ بی بی کی زندگی سعی پیہم اور عزم مسلسل سے عبارت تھی چنانچہ آپ نے  مکہ کے شب و روز کی جہاں سختیاں برداشت کیں وہیں شعب ابی طالب کے اقتصادی و معاشی محاصر ے کے سخت ترین دن و رات بھی گزارے اور اس کے بعد اپنے بابا کی جدائی اور اپنے شوہر کے اوپر ہونے والے مظام اور خود اپنے ساتھ ہونے والی جانکاہ اذیتوں کو برداشت کیا لیکن زندگی کے کسی بھی مرحلہ میں تاریخ آپکو ایک بے بس انسان کے طور پر نہیں پیش کرتی بلکہ ایک متحرک و فعال ایسے انسان کے طور پر پیش کرتی ہے جو کہیں مقصد رسالت کو واضح کر رہی ہے اور کہیں ہجوم مصایب میں گھرے رہنے کے باوجود مقصد ولایت و امامت کی پاسباں ہے ایسی شخصیت کے ایام شہادت  میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم جہاں بی بی کے اوپر پڑنے والے مصایب کو بیان کریں وہیں خرمن تاریخ سے ان خوشوں کو بھی سماج اور معاشرہ کے سامنے پیش کریں جنکا تعلق آپکی عملی سیرت سے ہے لہذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان ایام میں ہم اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے فضایل و کمالات کے ساتھ ان کی عملی سیرت کو اپنے تحقیقی رجحان میں شامل رکھیں.

ماخذ: