14 مرداد 1399
  -  
2020 اوت 4
  -  
15 ذو الحجة 1441
 
خبریں نمبر: 129 تاریخ: 2014/03/15 مناظر: 1  

اسلامک فقہ اکیڈمی کا تئیسواں فقہی اجلاس منعقد

لڑکیوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے کا رجحان قابل افسوس: مولانا رابع حسنی ندوی

جمبوسر (بھروچ، گجرات۔02مارچ(یو این این)بچو ں  کو گودی لینے کے سلسلہ  میں سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلہ پرگزشتہ دنوں یہاں اسلامک فقہ اکیڈمی کے چل رہے سہ روزہ ۲۳ویں سمینار میں تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے آئینی تحفظات کے برخلاف مسلمانوں کے عائلی قوانین میں صریح مداخلت سے تعبیر کیا گیا۔ ملک وبیرون ملک سے آئے سرکردہ علماء ومفتیان کرام نے زور دیا کہ اس مسئلہ کا کوئی موزوں اور معقول حل نکالا جائے۔جامعہ علوم القرآن کے وسیع وعریض اور عالیشان کیمپس میں شہریت، ہبہ وغیرہ  کے موضوعات پر جاری سمینار کے دوسرے دن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر مولانا سید رابع حسنی ندوی نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا کہ لڑکیوں کو وراثت میں حصہ نہ دینے کا رواج عام ہوتا جارہا ہے۔ صدر بورڈ نے اکیڈمی کی عصری اور قدیم مسائل میں فکری اور فقہی کاوشوں کی زبردست ستائش کرتے ہوئے کہا کہ سمینار کے لیے جو موضوعات کا انتخاب کیا گیا ہے وہ کافی اہم اور عصری تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔ مولانا حسنی ندوی نے میراث پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا کے ملکوں بالخصوص ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں لڑکیوں کو وراثت میں حق دینے کے معاملہ میں کوتاہی برتی جاتی ہے۔ انہوں نے زور دیا ہ سمینار میں اس معاملہ پر غور وفکر کرکے اس کی بہتر صورت عوام الناس کے سامنے پیش کی جائے۔اس سے قبل فقہ اکیڈمی کے علمی امور کے سکریٹری مولانا عتیق احمد قاسمی بستوی نے بچہ گود لینے کے معاملہ پر سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ پر کہا کہ یہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت ہے۔ اس کے سد باب کے سلسلہ میں ہمیں غور وفکر کرنا چاہئے۔سمینار کی پہلی نشست میں شہریت اور اس سے متعلق حقوق کے موضوع کے ہر پہلو پر سیر حاصل گفتگو ہوئی۔ محققین اور اسکالروں نے اس موضوع پر ۳۲مقالے پیش کیے جس میں موجودہ دور کی اصطلاح شہریت (Citizenship) اور قومیت (Nationality) پرر روشنی ڈالی گئی۔ سمینار میں  پناہ گزینوں کے مسئلہ پر بھی روشنی ڈالی گئی، کیونکہ اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ پناہ گزین مسلمان ہی ہیں اس بارے میں اکثر مقالہ نگاروں کا رجحان یہ رہا کہ ظلم وزیادتی یا خانہ جنگی کی وجہ سے ترک وطن کرنے والے مسلمان پناہ گزینوں کو پناہ دینے والے مسلم ملک پر شرعاً یہ ضروری ہے کہ وہ ان مہاجرین کو تمام حقوق وسہولتیں فراہم کرے۔ مسلم ملک میں کسی غیر مسلم کو شہریت دینے کے معاملہ پر اکثر مقالہ نگاروں نے کہا کہ مکہ ومدینہ کے سوائے کسی بھی مسلم ملک میں غیر مسلموں کو آباد کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ ان کو شہریت دینے میں قومی، ملی اور ملکی مصالح کو کوئی خطرہ نہ ہو۔ ایک دوسری نشست میں وصیت نامہ کے ذریعہ ورثاء کے شرعی حصص اور حقوق کا تعین کے موضوع پر زبردست اور دلچسپ بحث ہوئی، خاص طور پر اس موضوع پر ایک مسلمان اگر غیر مسلم ہوجائے تو کیا اس کی وصیت باقی رہے گی؟ اسی طرح اگر کوئی غیر مسلم مسلمان ہوجائے تو اسلام لانے کے بعد کیا اس کو شرعی حق حاصل ہوگا؟ علاوہ ازیں مختلف مغربی ملکوں میں اقلیت میں آباد مسلمانوں کے لئے وراثت کی شرعی تقسیم اور دیگر غیر مسلم رشتہ داروں کو مسلمانوں کا وارث قرار دیئے جانے کا بھی ایک مسئلہ ہے۔ اس موضوع پر تقریباً ۶۴مقالات پڑھے گئے۔ ان میں یہ سوال کھڑا کیا گیا کہ جن ملکوں میں اسلام کا نظام قانون میراث نافذ نہیں وہاں کے مسلمانوں کے لئے زندگی ہی میں اس طرح کا وصیت نامہ لکھ دینا جائز ہے یا ممنوع؟
اس کے بعد کی نشست میں ہبہ سے متعلق بعض مسائل بھی زور دار انداز میں زیر بحث آئے۔ ۷۰مقالات اس موضوع پر پیش کیے گئے۔ عموماً لوگ احکام شرعیہ سے واقف نہیں ہوتے اس لئے بعض اختیارات کو استعمال کرنے کا جو طریقہ کار ہے اس پر عمل نہیں کرتے۔ ان ہی میں ایک ہبہ کا مسئلہ ہے۔ ۔ واضح رہے کہ فقہ اکیڈمی نے اب تک اپنے پچھلے ۲۲سمیناروں میں ۹۲مرکزی موضوعات کو زیر بحث لایا اور بہ حیثیت مجموعی تقریباً ۵۵۰جزوی مسائل پر اس نے فیصلے کیے جسے نہ صرف ہندوستان بلکہ عالم اسلام میں قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اس موقع پر مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سکریٹری جنرل اور امیر شریعت بہار، جھارکھنڈ واڑیسہ مولانا سید نظام الدین صاحب کی شخصیت اور ان کی خدمات پر عارف اقبال کی مرتب کردہ کتاب کا اجراء بھی عمل میں آیا۔

Unn.com. www

ماخذ: