29 دی 1400
  -  
2022 January 19
  -  
16 جمادى الآخرة 1442
 
خبریں نمبر: 126 تاریخ: 2014/03/07 مناظر: 1  

وجود خدا کے اثبات کے موضوع پر ریچارڈ

وجود خدا کے اثبات کے موضوع پرریچارڈ ساین برن کے بہترین اثر کا فارسی زبان میں ترجمہ شروع

ادیان و مذاہب یونیورسٹی کے  شعبہ اطلاع رسانی کی سایٹ نے اطلاع دی  ہے کہ اس یونیورسٹی کے علمی بورڈ کے رکن محمد جاوداں کہ جنہوں نے اس سے قبل   ریچارڈ ساین برن  Richard Swinburneکی کتاب کیا خدا کا وجود ہے  " (Is there a God)کا فارسی ترجمہ کیا تھا اب مصنف سے اجازت لیکر وجود خدا   (The Existence of Godکا ترجمہ  چند مترجمین کی مدد سے شروع کیا ہے  ادیان و مذاہب یونیورسٹی کے  علمی بورڈ کے رکن محمد جاوداں نے اس کتاب کی افادیت کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوءے بیان کیا کہ یہ کتاب جدید اسلوب نگارش کے ساتھ اثبات وجود خدا پرب لکھی جانے والی بہترین کتابوں میں ہے جس میں مصنف نے کوشش کی ہے کہ مختلف ادیان و مذاہب کے درمیان قدیم سے لیکر اب تک وجود خدا کے بارے میں پیش کئے گئے دلایل و براہین کو جدید طرز بیان کے ساتھ رقم کیا جائے انہوں نے بیان کیا کہ مصنف ہرگز اپنی کتاب میں ان شبہات و اعتراضات سے غافل نہیں رہے  جنہیں جی ایل مکی جیسے معروف ملحدوں نے پیش کیا ہے چنانچہ مصنف نےموجودہ زبان میں ان کا جواب دیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ  ریچارڈ ساین برن  Richard Swinburneبیسویں صدی کے معروف دینی فیلسوف میں شمار ہوتے ہیں اور فی الحال اکسفورڈ یونیورسٹی میں اپنے رٹائرمنٹ کے ایام گزار رہے ہیں چودہ فصلوں اور تین ضمیموں پر مشتمل آپکی وجود خدا نامی کتاب انگریزی زبان  میں جدید اصلاحات و اضافات کے ساتھ  ۲۰۰۴  ء اکسفورڈ یونیورسٹی سے چھپ کر منظر عام آئی ہے  ریچارڈ ساین برن  Richard Swinburneنے اس کتاب میں کوشش کی ہے کہ اثبات وجود خدا کے نظریہ کو مقابل میٹریا لسٹی نظریہ کے مقابل پیش کر کے اس کی وضاحت کی جائے اور کائنات کی بہترین توضیح کے لئے اسی روش کو بروئے کار لایا جائے جو آج کی دنیا میں جدید نظریات کو پیش کرنے کے لئے رائج ہے اور جو مختلف مفروضوں اور علمی نظریات کو پیش کرنے میں اختیار کی جاتی ہےکہ جسکی بنیاد پر اپنی مراد کو بہترین اسلوب نگارش کے میں پیش کیا جاتا ہے ریچارڈ ساین برن  Richard Swinburneکے عقیدہ کے مطابق یہ صرف توحید بر مبتنی خدا شناسی ہے جو کائنات کے وجود اور اس کے اند ر پائے جانے والے نظم و انصرام کو و واضح و روشن کر سکتی ہے ۔محمد جاوداں کے بقول کوشش کی جا رہی ہے کہ اس کتاب کا فارسی ترجمہ آیندہ سال تک شایع ہو جائے 

ماخذ: