29 دی 1400
  -  
2022 January 19
  -  
16 جمادى الآخرة 1442
 
خبریں نمبر: 125 تاریخ: 2014/03/04 مناظر: 1  

وحیانی علوم کے بین الاقوامی فاونڈیشن اسراء

وحیانی علوم کے بین الاقوامی فاونڈیشن اسراء میں حوزہ کی اعلی تعلیم کی عمارت کا افتتاح

اسراء نیوز کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق قم مقدسہ میں  آیت اللہ جوادی آملی نے اسراء فاونڈیشن میں حوزوی اعلی تعلیم کے شعبہ کے افتتاح کے موقعہ پر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ سماج کی مختلف ضرورتوں کے جوابات کو قرآن سے نکالا جا سکتا ہے فرمایا: روایات میں غور و فکر کے ذریعہ قرآن کی جانب سے بیان کی گئی رہ گذر کو تلاش کیا جا سکتا ہے ۔آپنے تفسیر علوم قرآن کے شعبہ میں مزید علمی جولانیوں اور اقدامات پر زور دیتے ہوئے فرمایا: انسان کو کامیابی و سعادت کے راستہ پر گامزن ہونے کے لئے ضروری ہے کہ وہ قرآن کے بتائے ہوئے راستہ پر قدم آگے بڑھائے ۔آپ نے اس بات کو بیان کرتے ہوئے کہ ہم مغرب کے دینی مراکز کو دینی عقلانیت کی پیش کش کر سکتے ہیں فرمایا: ایک زمانہ میں کلیسا کو لوگوں کے عقاید کی تفتیش کا بیراگ تھا ۔اور وہ گلیلیوGalileo Galileiکو بے عقل کہا کرتے تھے {ایک اطالوی ماہر فلکیات اور فلسفی  جس نے سائنسی انقلاب پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیاجسے دنیا دوربینکے نامور موجد کے طور پر جانتی ہے- گلیلیو نے اشیا کی حرکات، دوربین، فلکیاتکے بارے میں بیش قیمت معلومات فراہم کیں۔ اسے جدید طبیعیات کا باپ کہا جاتا ہے۔ مترجم }

وہی لوگ جو کل لوگوں کے عقاید کی تفتیش کرتے تھے آج قرآنی پیغامات کو سمجھنے کے لئے تیار نہیں ہیں یہ بات کلیسا کے فکری سطح کے نچلے پن کو بیان کرتی ہے آپ نے اپنی باتوں کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا: پہلی اور دوسری عالمی جنگ کی آگ اسی مغرب کی یونیورسٹیوں نے بھڑکائی جبکہ ان جنگوں میں لاکھوں لوگوں کے مارے جانے کے باوجود آج انکی تاریخ قصہ پارینہ بن گئی اور کوئی ان کی یاد نہیں مناتا جب کہ اس کے برخلاف کربلا چودہ سو سال کا عرصہ گزر جانے کے بعدبھی زندہ و متحرک ہے ۔

آیت اللہ جوادی آملی نے حدیث ثقلین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : خدا وند عالم نے اپنے بندوں سے اپنے تعلق کو قرآن کے ذریعہ قائم رکھا ہے اور یوں خدا کا فیض عام ہے اور ایک پل کے لئے بھی منقطع ہونے والا نہیں ہے قرآن حبل متین ہے ایک ایسی نہ ٹوٹنے والی مضبوط رسی ہے جسکا ایک سرا خدا کے ہاتھ  میں ہے تو دوسرا انسان کے، حدیث ثقلین کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں ہمیشہ قرآن سے جڑے رہنا چاہیے ۔ آپ نے طلاب کرام کو ائمہ علیھم السلام کے شاگرد قرار دیتے ہوئے فرمایا: ہم طلاب در حقیقت ائمہ علیھم السلام کے شاگر د ہیں لہذا ہمیں وہ کام کرنا چاہیے جو پیاڑوں کے بس میں بھی نہ ہو اس لئے کہ خدا وند متعال کے قول کے مطابق پہاڑوں کے اندر قرآن کو تحمل کرنے کی طاقت نہ تھی ۔لیکن ہم اس امانت کو اٹھا سکتے ہیں جس کو پہاڑ و آسمانوں نے اٹھانے سے انکار کر دیا تھا ۔ آپ نے "علمی میدانوں میں ہم کر سکتے ہیں" کہ نعرہ کو عملی کرنے کی طرف اشارہ کرتے ہوءے فرمایا : مغرب کو یہ بات سمجھ لینا چاہیَے کہ ایٹمی بمب کا حصول کوئی فخر کی بات نہیں ہے اور ہماری نظر میں یہ چیز ہم کر سکتے ہیں کے نعرہ کا تحقق نہیں ہے بلکہ ہمارے نزدیک ہم کر سکتے ہیں کا تحقق قرآن کے عمیق معارف و تعلیمات تک رسائی ہے اور ہمیں اس مھم کو حاصل کرنے کی بات کرنا چاہیے یقینیا ہمارے پاس اس مھم تک پہونچنے کی صلاحیت بھی ہے لہذا ہمیں مغرب کے دینی اور علمی مراکز کو قرآنی تعلیمات سے بیدار  کرنے کی ضرورت ہے ۔ آپ نے اپنی گفتگو کے اختتام پر علامہ طباطبائی کی شخصیت کو سراہتے ہوئے فرمایا:  علامہ طباطبائی حوزہ علمیہ قم کے لا متناہی سمندر کا ایک ثمر ہیں کہ جنہوں نے اس بات کو ثابت کیا کہ احادیث ائمہ علیھم السلام قرآن کریم سے ھم آہنگ ہیں لہذا یہ نکتہ تمام مفسرین کے پیش نظر رہنا چاہیے۔

ماخذ: