29 دی 1400
  -  
2022 January 19
  -  
16 جمادى الآخرة 1442
 
خبریں نمبر: 120 تاریخ: 2014/02/19 مناظر: 1  

حوزہ علمیہ کی سب سے عظیم ذمہ داری

معروف مفکر و مفسر آیۃ اللہ جوادی آملی نے حوزہ علمیہ قم کے حدیث سے متعلقہ تخصّصی سینٹر کے اساتذہ اور محققین سے ملاقات میں....

معروف مفکر و مفسر آیۃ اللہ جوادی آملی نے حوزہ علمیہ قم کے حدیث سے متعلقہ تخصّصی سینٹر کے اساتذہ اور محققین سے ملاقات میں نقل احادیث کے لئے معتبر حدیثی کتابوں کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا : مختلف کتابوں میں نقل ہونے والی احادیثوں کی کثرت در حقیقت چند ایک کتب کی ہی رہین منت ہے: مثلاً ایک ہی بات کو ہم ہزار جگہوں پر دیکھتے ہیں، اورجب اس روایت کو ہم ہزار جگہوں پر دیکھتے ہیں تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ بات اب قطعی اور یقینی ہے، جبکہ اگر ہم تھوڑی اور جستجو کریں گے  تو ہمیں محسوس ہوگا کہ اب یہ ہزار کتابیں چار پانچ سو کتابیں بن گئی ہیں، تھوڑا اور پیچھے کی طرف آئیں گے تو دو سو کتابوں میں یہ حدیث ملے گی، یہاں تک کہ جب ہم علّامہ مجلسی کے دور میں پہنچیں گے تو پھر صرف پچاس ساٹھ کتابیں ہی بنیں گی۔ اسی طرح امین الاسلام کے دور میں جب پہنچیں گے تو اتعداد اورکم جائے گی، تھوڑا اور پیچھے کی جانب جائیں گے تو معلوم ہوگا کہ اس روایت کو کتب اربعہ سے نقل کیا گیا ہے۔ یعنی وہ حدیث جو ہزار کتابوں میں بیان کی گئی تھی در حقیقت وہ ان چار کتابوں سے لی گئى ہے۔ اب تھوڑا اور تحقیقات کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ان چار کتابوں کو بھی تین ہی لوگوں نے لکھا ہے کیونکہ تہذیب و استبصار کو اکیلے شیخ طوسی نے لکھا ہے۔ اب تھوڑا اور اگر تحقیق کریں تو معلوم ہوگا کہ در حقیقت یہ مطالب دو لوگوں سے ہی لکھے گئے ہیں کیونکہ خود شیخ طوسی نے بعض مقامات پر ان دو مؤلفین میں سے کسی ایک سے نقل کیا ہے یعنی یا کلینی سے یا صدوق سے۔ پس یہ ہزار کتابیں دو بن گئیں۔ تھوڑا اور آگے بڑھیں گے تو معلوم ہوگا کہ ان لوگوں نے بھی زرارہ سے نقل کیا ہے۔ اس طرح ایک حدیث "خبر واحد" بن گئی آپ جانتے ہیں کہ خبر واحد ایسی چیز نہیں ہے کہ تمام علماء اس پر تکیہ کرسکیں۔ لہذا مختلف احادیثوں کے بارے میں غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس طرح ہم تک پہنچی ہیں ۔
حضرت آیۃ اللہ جوادی آملی نے کتب اربعہ اور اصول اربعمأۃ کے مابین خلا کو پُر کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:
ہم سب پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے (عمومی طور پر ہم سب پر اور چونکہ آپ حضرات فن حدیث سے وابستہ ہیں اس لیے خصوصی طور پر آپ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے) کہ کتب اربعہ اور اصول اربعمأۃ کے ما بیں رابطے کو ایجاد کریں اور ان کے درمیان موجود خلأ کو پر کریں۔ اگر ایسا کیا گیا تو دین زندہ ہوگا،۔

ماخذ: